آئین مخالف وقف قانون کے خلاف ’بتی گل احتجاج‘ کو ملک گیر سطح پر کامیابی حاصل

پرسنل لاء بورڈ اور مختلف ملی تنظیموں اور اراکین اسمبلی کی یاددہانی اور اپیل رنگ لائی
ممبئی / اورنگ آباد ، 30 اپریل (ایجنسی) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے آئین مخالف وقف ترمیمی قانون کے خلاف ملک گیر سطح پر منعقد کیا گیا "بتی گل احتجاج” 30 اپریل کو کامیابی کے ساتھ انجام پایا۔ اس احتجاج میں ملک کی متعدد مسلم مذہبی، ملی اور سماجی تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس کا مقصد حکومت کے ذریعہ پیش کردہ متنازع وقف ترمیمی بل کی مخالفت اور ملت اسلامیہ کے مذہبی، فلاحی اور تعلیمی اداروں کے تحفظ کے عزم کا اظہار کرنا تھا۔ مسلم قیادت نے اس قانون کو وقف املاک پر کھلا حملہ قرار دیا ہے۔

اس احتجاج کے دوران ملک بھر میں علمائے کرام، دینی و ملی سیاسی سماجی اور ملی تنظیموں کے ساتھ ساتھ کئی مسلم اراکین اسمبلی نے بھی عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی تھی عام مسلمانوں نے حکومت کو واضح پیغام دیا کہ وقف املاک مسلمانوں کی اجتماعی امانت ہیں، اور ان پر کسی بھی قسم کی سرکاری مداخلت یا قبضہ ہرگز قابل قبول نہیں۔ پرسنل لاء بورڈ کی اپیل پر عمل کرتے ہوئے مہاراشٹر کے تقریباً تمام اضلاع اور شہروں میں مسلمانوں نے اپنے گھروں، دکانوں، عمارتوں اور علاقوں کی بجلی بند کر کے احتجاج درج کرایا۔
عرس البلاد ممبئ کے مسلم علاقے ناگپاڑہ، مدنپورہ، بھینڈی بازار، باندرہ، اندھیری، جوگیشوری، نالا سوپارہ، میرا روڈ، تھانے، ممبرا اور بھیونڈی جیسے علاقوں میں احتجاج کو زبردست عوامی حمایت حاصل ہوئی۔ نوجوان سڑکوں پر نکل کر بجلی بند کرنے کی اپیل کرتے دکھائی دیے۔ کئی فلک بوس عمارتوں میں لفٹس بند تھیں اور پولیس کی طرف سے سخت سیکورٹی انتظامات اور ناکہ بندی کی گئی تھی۔

اورنگ آباد کے مسلم علاقوں جیسے بڈی لین، یونس کالونی، شاہ بازار، عثمان پورہ، کٹ کٹ گیٹ، بائیجی پورہ، روش گیٹ وغیرہ میں بھی احتجاج بھرپور کامیابی سے منعقد ہوا۔ ہر طرف مکمل طور پر بجلی بند کر کے مسلمانوں نے اپنا غم و غصہ ظاہر کیا۔اورنگ آباد میں جماعت اسلامی کے الیاس فلاحی نے کہا کہ اورنگ آباد شہر میں یہ احتجاج بہت بڑے پیمانے پر کامیاب ہوا۔

پرسنل لاء بورڈ کی طرف سے اعلان کردہ اس احتجاج کا وقت شب 9 بجے سے 9:15 بجے تک مقرر تھا، جس کے دوران عوام سے گھروں، دفاتر اور دکانوں کی لائٹیں بند رکھنے کی اپیل کی گئی تھی، تاکہ حکومت کو یہ واضح پیغام پہنچایا جا سکے کہ یہ متنازع وقف قانون ناقابل قبول ہے اور ملت اسلامیہ کو اس کے ذریعے اندھیرے میں دھکیلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس سلسلے میں پرسنل لاء بورڈ نے جہاں بھرپور اپیل کی، وہیں سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی عوام تک پیغام پہنچایا گیا۔ دیگر ملی تنظیموں اور مسلم اراکین اسمبلی نے بھی عام مسلمانوں سے اس احتجاج میں شریک ہونے کی اپیل کیگئی تھی۔

پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سیکریٹری مولانا فضل الرحیم مجددی نے اپنی اپیل میں واضح کیا کہ "بتی گل” کرنا بزدلی نہیں بلکہ یہ عزم ہے کہ ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وقف قانون آئین کے خلاف ہے اور مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔
رضا اکیڈمی کے سربراہ الحاج محمد سعید نوری نے بھی اپنے سخت بیان میں کہا کہ وقف ترمیمی قانون جو اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے، کسی حال میں قبول نہیں کیا جائے گا۔
خانقاہ شارح بخاری گوونڈی میں منعقدہ ایک اہم میٹنگ میں حضرت پیر مولانا ولی اللہ شریفی نے ملک کی تمام مساجد، مدارس، خانقاہوں اور دینی اداروں کے ذمہ داران سے متحد ہو کر آواز بلند کرنے کی اپیل کی تھی۔
ان تمام اپیلوں پر مسلمانوں کی جانب سے صد فی صد عمل کیا گیا اور اس آئین مخالف وقف قانون کے خلاف ’بتی گل احتجاج‘ کو مکمل طور پر کامیاب بنایا گیا۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading