کراچی میں مشتعل افراد نے امریکی قونصلیٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی اور عمارت میں توڑ پھوڑ بھی کی ہے، اس دوران فائرنگ سے کم از کم نو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔سول ہسپتال کراچی کے ایک سینیئر ڈاکٹر نے بی بی سی نیوز کے عثمان زاہد کو بتایا ہے کہ امریکی قونصل خانہ کراچی کے قریب پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد نو لاشیں اور کم از کم 32 زخمی ہسپتال لائے گئے۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے ایک اہلکار نے بھی تصدیق کی ہے کہ انھوں نے نو لاشیں اور درجنوں زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا۔ جھڑپیں اس وقت شروع ہوئیں جب پولیس نے مظاہرین کو قونصل خانے کے کمپلیکس میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی۔ پولیس کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔
امریکی قونصلیٹ کراچی میں بندرگاہ کے قریب واقع ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ بعض افراد گیٹ توڑ کر اندر داخل ہوئے جس کے بعد استقبالیہ اور سکیورٹی کمرے کے شیشے توڑے گئے۔
مجلس وحدت مسلمین کے ترجمان کے مطابق یہ عوامی احتجاج تھا جس میں عام لوگوں نے مذہبی شخصیت کی ہلاکت پر ردعمل میں امریکی قونصلیٹ پر پہنچ کر احتجاج کیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہرین پر اندر سے بھی فائرنگ کی گئی۔
تاحال پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ گولیاں کہاں سے چلیں اور کس نے چلائیں۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بھی اموات کی تصدیق کی ہے۔
کراچی پولیس کے ڈی آئی جی ایسٹ زون کا کہنا ہے کہ کچھ مشتعل افراد قونصلیٹ میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر حالات پر قابو پا لیا ہے۔
دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیاالحسن لنجار نے امریکن قونصلیٹ کے باہر احتجاجی مظاہرے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تفصیلات طلب کی ہیں۔
ایک اعلامیے میں صوبائی وزیر نے کہا ہے کہ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن و امان میں خلل ڈالنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔انھوں نے پولیس کو ہدایت کی کہ حساس تنصیبات کی سکیورٹی مزید سخت کی جائے۔
امریکی و اسرائیلی حملوں میں ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای ہلاکت کی تصدیق کے بعد دنیا کے مختلف ممالک میں واقع امریکی سفارتخانوں اور قونصلیٹ کے باہر احتجاج کی خبریں آ رہی ہیں۔
عراق کے شہر بغداد میں مظاہرین گرین زون پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں امریکی سفارت خانہ واقع ہے۔