بھیونڈی کارپوریشن کا 388 کروڑ کا ٹیکس بقایا ، وصولی کے لئے 25 لوگوں کی ٹیم تشکیل

45 دن میں وصول ہوا صرف 15 کروڑ کا ٹیکس ، 2 کروڑ 38 لاکھ کا کیا گیا سود معاف ، کمشنر کے ہدف کا ہے محض 40 فیصد

بھیونڈی ( ایس اے ):- بھیونڈی کارپوریشن کا مختلف اقسام کے ٹیکس سمیت شہریوں پر 488 کروڑ 94 لاکھ 99 ہزار 508 کا ٹیکس بقایا ہے ۔ جس کی وصولی حکومت کے ذریعہ ان لاک کا عمل شروع کئے جانے کے بعد کارپوریشن انتظامیہ نے 14 اکتوبر 2020 سے 30 نومبر تک ابھئے یوجنا کا نفاذ کیا تھا ۔جس کے تحت 45 دنوں میں پانچوں پربھاگ سے 15 کروڑ 8 لاکھ 51 ہزار 568 روپئے مختلف ٹیکس کے ذریعے وصول کیا گیا ہیں ۔ جبکہ اس وصولی کے لئے کارپوریشن نے 2 کروڑ 38 لاکھ کا سود معاف کیا ہے یہ وصولی میونسپل کمشنر کے ہدف کا صرف 40 فیصد ہے ۔ وہی اس دوران انتظامیہ نے کورونا کی وجہ سے نہ تو کسی ٹیکس بقایہ دار کی جائیداد سیل کی اور نہ ہی نل کنکشن منقطع کیا گیا ۔
واضح ہو کہ بھیونڈی کارپوریشن کے ذریعہ شروع کی گئی "ابھئے یوجنا” کے تحت 45 دن میں 15 کروڑ کی وصولی ہوئی ہے ۔ جس کی متعلق کارپوریشن کے ڈپٹی کمشنر ماروتی گائیکواڈ نے معلومات دیتے ہوئے بتایا کے بھیونڈی کارپوریشن کا شہریوں پر مختلف ٹیکس کا 488 کروڑ 94 لاکھ 99 ہزار 508 بقایا ہے ۔ جس کے لئے کارپوریشن انتظامیہ نے 14 اکتوبر 2020 سے 30 نومبر تک 45 دن کے لئے ابھئے یوجنا پر عمل درآمد کیا تھا جس میں کارپوریشن کی پانچوں پربھاگ نے 45 دن میں 15 کروڑ 8 لاکھ 51 ہزار 568 روپئے کی وصولی کی ۔ جبکہ اس وصولی کے لئے کارپوریشن انتظامیہ نے 2 کروڑ 38 لاکھ ایک ہزار 474 روپئے کا سود معاف بھی کیا ہے ۔ کارپوریشن کی شروع کی گئی اس اسکیم سے 11 ہزار 602 افراد نے فائدہ اٹھایا ۔ جبکہ موجودہ سال میں 1 اپریل سے 30 نومبر تک کل 19 کروڑ 72 لاکھ 90 ہزار 687 روپئے کی وصولی کی گئی ہے ۔ تاہم میونسپل کمشنر ڈاکٹر پنکج آسیا نے ابھئے یوجنا کے تحت 45 دن میں 40 کروڑ کی وصولی کا ہدف دیا تھا ۔ لیکن معاشی بدحالی کی مار جھیل رہی عوام اس اسکیم کا زیادہ فائدہ نہیں اٹھاسکی ۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر پنکج آیشیا نے متعلقہ محکمہ کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ مارچ کے آخر تک کم از کم سو کروڑ کی وصولی کریں اور ہدف مقرر کرتے ہوئے تیزی لانے کی ہدایات دی ہے وہی ڈپٹی کمشنر ماروتی گائیکواڑ نے طئے شدہ ہدف کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ ٹیکسوں کی وصولی سے کارپوریشن کی پٹری سے اتری معیشت دوبارہ پٹری پر آجائے ۔ جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وصولی میں سب سے بڑا رخنہ متنازعہ معاملات پیدا کر رہے ہے ۔ جسکہ کوئی تفصیلات میونسپل انتظامیہ کے پاس دستیاب نہیں ہیں ۔ کارپویشن نے کورونا معیاد سے پہلے 10 دسمبر سے 31 جنوری تک سود میں 100 فیصد چھوٹ دینے کے لئے ابھیے یوجنا کا آغاز کیا تھا ۔ مذکورہ 52 دنوں میں کارپوریشن نے 24 کروڑ 99 لاکھ 39 ہزار 057 روپئے کی وصولی کی تھی ۔ جس کے لئے کارپوریشن انتظامیہ نے چھ کروڑ چار ہزار 185 روپئے کا سود معاف کردیا تھا جس کا فائدہ 22 ہزار 42 افراد نے اٹھایا تھا لیکن اس دوران کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں وصولی روک دی گئی تھی اس دوران 1297 افراد کا نل کنکشن بھی منقطع کردیا گیا تھا اور 639 کی جائیداد بھی سیل کردی گئی تھی ۔ کارپوریشن ذرائع کے مطابق کارپوریشن ٹیکس کی وصولی کے لئے 125 افراد کی ایک ٹیم تیار کی گئی ہے جس میں کارپوریشن ہیڈ کوارٹر کے 15 افراد ، پربھاگ سمیتی کے 90 افراد اور 15 دیگر افراد شامل ہیں ۔ انھوں نے بتایا کہ اس کے لئے 6 ، 6 لوگوں کی ٹیم تیار کی گئی ہے جس میں کل 25 ٹیمیں بنائی گئی ہیں جو اپنے اپنے علاقوں میں ٹیکس جمع کررہی ہیں ۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading