مودی ماڈل قانون وموجودہ قانون سے لاعلمی کا مظاہرہ کرکے لوگوں کو بیوقوف بنارہے ہیں: نواب ملک

ممبئی: ماڈل قانون اور موجودہ قانون میں بہت بڑا فرق ہے، لیکن یا تومودی کو پتہ نہیں ہے یا پھر وہ لوگوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ وزیراعظم نریندرمودی نے آج کسانوں کے آندولن پر راجیہ سبھا میں اپنے بیان میں شردپورا کا ذکر کیا جس پر این سی پی کے قومی ترجمان نواب ملک نے مودی پر براہ راست تنقید کی۔

نواب ملک نے کہا کہ ابتداء سے ہی بی جے پی اپنی غلطیوں کو پوار صاحب کانام لے کر حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ مودی کو آج تک یہی نہیں معلوم ہوا کہ پوار صاحب اس ملک میں زرعی اصلاحات کے حمایتی تھے۔ اپنی وزارت کے وقت انہوں نے زرعی اصلاحات کے لیے ایک ماڈل قانون بنانے کی کوشش میں تھے۔ آج جو تینوں زرعی قوانین پر پورے ملک میں ہنگامہ جاری ہے، وہ کانکراس لسٹ میں ہونے کے باوجود مرکزی حکومت نے ماڈل قانون نہیں بنایا بلکہ ریاستی حکومتوں کے قوانین کو اپنے پاس لے کر قانون بنایا۔ قوانین کو جوں کے توں لاگو کرنا ریاستوں پر لازمی ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ مودی کو یہ فرق سمجھ میں نہیں آیا۔

نواب ملک نے کہا کہ موجودہ قانون اور ماڈل قانون میں کیا فرق ہے؟ یہ مودی کو سمجھ لینا چاہیے۔ ابھی بھی وقت نہیں گیا ہے۔ این سی پی وکوئی بھی پارٹی اصلاحات کے خلاف نہیں ہے لیکن متفقہ رائے بنانا، لوگوں کو اعتماد میں لینا وفی الوقت جو قوانین ہیں ان میں تبدیلی کرنا ضروری ہوتا ہے۔ وزیراعظم یا حکومت اگر ابھی بھی فریاد کررہے ہیں تو یہ مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات کے ضمن میں اگر قوانین بنانے ہوں تو حکومت کو چاہیے کہ وہ تمام اپوزیشن کو اعتماد میں لے۔ کسانوں سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اگر تمام کو وہ اصلاحات منظور ہوں تبھی قانون بنانا چاہیے۔

’میں دوبارہ آؤنگا ‘کہنے والے فڈنویس کے خواب کو پورا ہونے میں مزید 25سال لگیں گے: نواب ملک

ممبئی:این سی پی کے قومی ترجمان واقلیتی امور کے وزیر نواب ملک نے ریاست کے حزبِ مخالف لیڈردیوندر فڈنویس پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ’میں دوبارہ آؤنگا‘ کہنے والے فڈنویس کو اقتدار میں آنے کے اپنے خواب کو پورا کرنے میں مزید 25سال لگیں گے۔ نواب ملک نے کہا کہ بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں کہ ہم پانسہ پھینکے والے ہیں، لیکن وہ کون سا پانسہ ہے؟ہمیں نہیں معلوم۔ نواب ملک نے کہا کہ گزشتہ 22برسوں سے نرائن رانے وزیراعلیٰ بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں پانسہ پھینکنا نہیں آیا اور وہ وزیراعلیٰ نہیں بن سکے۔ اب ان کے ساتھ دیوندرفڈنویس آگئے ہیں، وہ بھی وزیراعلیٰ کے عہدے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ خواب دیکھنا ان کا حق ہے لیکن ’میں دوبارہ آؤنگا‘ کا نعرہ لگانے والے فڈنویس وزیراعلیٰ بننے کا جو خواب دیکھ رہے ہیں، اسے پورا ہونے میں ابھی مزید 25سال لگیں گے۔ کیونکہ ادھوٹھاکرے نے حکومت سازی کے وقت ہی کہہ دیا تھا کہ یہ حکومت پانچ سال نہیں بلکہ 25سال تک چلنے والی ہے اور وہی ہوگا۔