شندے سرکار پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے پرہمارے 34 نہیں 40 ؍ایم پیز منتخب ہوں گے: مہیش تپاسے
ملک کے ٹاپ ٹین وزیراعلیٰ کی فہرست سے بھی ایکناتھ شندے غائب
ممبئی:انڈیا ٹوڈے سی ووٹر‘ نے’موڈ آف دی نیشن‘ نے جو سروے پیش کیا ہے، اس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مہاراشٹر کے 48 لوک سبھا حلقوں میں مہاوکاس اگھاڑی کو 34 سیٹیں ملیں گی۔لیکن اگر شندے-فڑنویس حکومت پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آجائے، تو یہ تعداد 40 تک پہنچ جائے گی۔ اس یقین کا اظہار این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے ظاہر کیا ہے۔
تپاسے نے کہا کہ آج ریاست بہت سے مسائل سے جوجھ رہی ہے اورشنڈے فڑنویس حکومت ان مسائل کو حل کرنے میں مکمل طو رپر ناکام ہے۔عوام کو دباؤ اور جبر کی سیاست کے ذریعے حکومت پر قبضہ کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ تپاسے نے یہ بھی کہا کہ جب لوک سبھا اور ودھان سبھا کے انتخابات ہوں گے تو یہ ’دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی‘ ہوجائے گا۔مہا وکاس اگھاڑی حکومت میں ادھو ٹھاکرے کی کارکردگی ٹھیک تھی، اسی وجہ سے ادھو ٹھاکرے ملک کے پہلے پانچ وزرائے اعلیٰ کی فہرست میں جگہ حاصل کرنے میں کامیاب رہے، لیکن موجودہ وزیر اعلیٰ ٹاپ ٹین میں بھی جگہ حاصل نہیں کر سکے، گویا عوام نے انہیں مسترد کر دیا ہے۔
مہیش تپاسے نے کہا کہ ’سی ووٹر‘ کے سروے میں ایکناتھ شندے کو صرف دو فیصد لوگوں نے ترجیح دی ہے، جس کا مطلب ہے کہ شندے کے حامیوں کو ریاست میں عوام کے رجحان کو نوٹ کرنا چاہیے۔پرکاش امبیڈکر ادھو ٹھاکرے کے نئے دوست بن گئے ہیں۔ لیکن قومی سطح پر شرد پوار صاحب بی جے پی کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے مورچے کی قیادت کر رہے ہیں۔ فرقہ پرستی کے خلاف قائم ہونے والے اس مورچے میں پوار صاحب نے بڑی حصہ داری ہے۔ اس لیے ہم امیدکرتے ہیں کہ مستقبل میں پرکاش امبیڈکر کا بیان بی جے پی کے خلاف ہوگا۔