پیغمبرِ اسلام ﷺ کی شان میں مبینہ گستاخی کے خلاف بھیونڈی میں دستخطی مہم، نازیہ الٰہی خان کی گرفتاری کا مطالبہ

بھیونڈی ( شارف انصاری ):- بھیونڈی کے کوٹرگیٹ واقع سنی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد تنظیم علماءِ اہلِ سنت کی جانب سے ایک پُرامن دستخطی مہم چلائی گئی، جس میں شریک افراد نے سوشل میڈیا پر پیغمبرِ اسلام حضرت محمد ﷺ کی شان میں مبینہ طور پر قابلِ اعتراض بیانات دینے کے الزامات کے سلسلے میں نازیہ الٰہی خان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

منتظمین کا کہنا تھا کہ مسلمان اپنے دینی عقائد اور پیغمبرِ اسلام ﷺ کی حرمت و ناموس کے معاملے میں انتہائی حساس ہیں۔ انہوں نے حکومت اور پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرکے قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔ اس سے قبل یومِ عاشورہ کے موقع پر مسجد میں دو رکعت نفل نماز ادا کی گئی، دعائے عاشورہ پڑھی گئی، درود و سلام پیش کیا گیا اور حضرت امام حسینؓ سمیت شہدائے کربلا کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ اس موقع پر حضرت امام حسینؓ کی تعلیمات اور ان کے اعلیٰ کردار پر عمل کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔ تنظیم کے مطابق نازیہ الٰہی خان کے خلاف مبینہ طور پر مذہبی جذبات مجروح کرنے اور نفرت انگیز مواد نشر کرنے کے الزام میں 22 جون 2026 کو شانتی نگر پولیس اسٹیشن، بھیونڈی میں ایف آئی آر نمبر 0648/2026 درج کی گئی تھی، تاہم اب تک گرفتاری عمل میں نہ آنے پر لوگوں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
جمعہ کی نماز کے بعد ہونے والی دستخطی مہم میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور حکومت و پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ملزمہ کے خلاف قانون کے مطابق فوری اور سخت کارروائی کی جائے۔ شرکاء نے کہا کہ اگر بروقت قانونی کارروائی نہ کی گئی تو وہ آئندہ بھی قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا پُرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں پولیس کی جانب سے تاحال کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے اور معاملے کی تحقیقات جاری ہیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading