کلیان لوک سبھا حلقۂ انتخاب بی جے پی کے نشانے پر: مہیش تپاسے
ممبئی:مودی پریوار کے ایک وزیر نے آج استعفیٰ دیتے ہوئے مودی حکومت پر بے عزتی کرنے کا الزام عاید کیا جبکہ دوسری جانب مہاراشٹر سے راج ٹھاکرے بی جے پی سے اتحاد کے لیے دہلی پہنچے اور بی جے پی کے لیڈروں سے ملاقات کی۔ اس پر این سی پی شردچندر پوار پارٹی کے ترجمان مہیش تپاسے سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی پر سخت تنقید کی ہے۔
مہیش تپاسے نے کہا کہ مودی پریوار کے ایک وزیر پشوپتی پارس نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ پارس نے کہا کہ وہ استعفیٰ اس لیے دے رہے ہیں کیونکہ انہیں مودی پریوار میں عزت نہیں مل رہی ہے۔ تپاسے نے کہا کہ یہ عجیب دلچسپ بات ہے کہ ایک جانب مرکزی حکومت میں شامل ایک وزیر اپنی عزت نفس کی خاطر وزارت سے استعفیٰ دے رہا ہے جبکہ دوسری جانب مہاراشٹر میں راج ٹھاکرے بی جے پی سے اتحاد کرنے کے لیے دہلی جاتے ہیں۔ ایسی لاچاری مہاراشٹر سے اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی تھی۔ انہوں نے کلیان لوک سبھا حلقۂ انتخاب میں بی جے پی اور اس کی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں زبرد ست ٹینتش ہے اور ان کے درمیان یں میوزیکل چیئر کا کھیل شروع ہو گیا ہے۔
مہیش تپاسے نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے صاحبزادے ڈاکٹر شری کانت شندے کی ان کی ہی اتحادی پارٹی بی جے پی نے سخت چیلنج دیا ہے۔ بی جے پی کے ریاستی صدر چندرشیکھر باون کولے کا کہنا ہے کہ کلیان لوک سبھا حلقۂ انتخاب کمل کی انتخابی نشانی پر لڑے جانے کی بات کہی ہے۔
ان سب کے درمیان وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا کہنا ہے کہ جو بھی مرے گا (شکست کھائے گا) وہ اپنی قسمت سے کھائے گا۔ اس پر مہیش تپاسے نے کہا کہ مہاراشٹر نے آج وزیر اعلیٰ شندے اور نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے درمیان قربت کا مشاہدہ کیا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہایوتی میں ایک دوسرے کے لیے کتنی محبت اور پیار ہے۔
