ممبئی: 2024 کے عام انتخابات کی منصوبہ بندی کے لیے 26 اپوزیشن پارٹیوں کااہم اجلاس کل بنگلور میں منعقد ہوا۔ اپوزیشن پارٹیوں کی اس میٹنگ کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ذریعے کٹربدعنوانوں کی میٹنگ قرار دینے پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے این سی پی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد، سیکولر طاقتوں کے مضبوط ہونے اور اپوزیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی بدولت کی وجہ سے بی جے پی میں زبردست خوف و ہراس پھیل گیاہے۔
تپاسے نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ وزیراعظم کو اپنی حکومت کی گرتی ہوئی مقبولیت صاف نظر آنے لگی ہے اور اسی وجہ سے وہ اپوزیشن کی میٹنگ پر تنقید کررہے ہیں۔مہیش تپاسے نے کہا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد کی وجہ سے ملک کی تمام سیکولر طاقتیں جمہوریت وآئین کے تحفظ کے لیے بی جے پی کے سامنے ایک بڑا چیلنج بنیں گی۔ اس بات کا احسا س ہوتے ہی بی جے پی مختلف ریاستوں میں اپوزیشن پارٹیوں کے ایم ایل ایز کو توڑنے کی کوششیں کررہی ہے۔سیکولر پارٹیوں کا یہ اتحاد 2024میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے امکان میں بہت بڑی رکاوٹ بنے گا۔ تپاسے نے کہا کہ آئین کے تحفظ کی اس اہم لڑائی میں این سی پی دیگر اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔تپاسے کے مطابق آنے والے عام انتخابات میں سیکولرازم، آئینی اقدار کی مضبوطی اور شفاف انتخابی عمل کے نفاذ جیسے موضوعات عوام کے نقطہ نظر سے اہم ہوں گے۔
