NCP Urdu News 16 June 23

مرکزی اور ریاستی حکومتیں خواتین کے تئیں انتہائی بے حس ہیں

ریاست میں خواتین پر بڑھتے ہوئے مظالم کے لیے ریاست کا محکمہ داخلہ ذمہ دار ہے: سپریا سولے

این سی پی کے قومی کارگزار صدر ایم پی سپریا سولے کا این سی پی بھون میں ڈھول تاشوں کے پرتپاک استقبال

ممبئی: مرکزی اور ریاستی حکومتیں خواتین کے تئیں بے حد غیرحساس ہیں۔دہلی میں خواتین پہلوانوں کے معاملے میں پولس کا رویہ اورمہاراشٹر میں جس طرح خواتین کے خلاف زیادتی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اس کی تمام ترذمہ دارریاست کا محکمہ داخلہ ہے۔ سپریا سولے نے کہا کہ مرین ڈرائیو واقعے کی شکار لڑکی کے اہلِ خانہ نے آج مجھ سے ملاقات کی ہے اور ہم جلد ہی اس معاملے میں حکومت سے اقدام کرنے کی اپیل کرنے والے ہیں۔ یہ باتیں این سی پی کی قومی کارگزار صدر سپریاسولے نے آج ایک پریس کانفرنس میں کہیں۔

این سی پی کی قومی کارگزارنامزد ہونے کے بعد ایم پی سپریا سولے آج پہلی بار این سی پی کے دفتر پہنچیں جہاں این سی پی کے کارکنوں اور عہدیداروں نے ڈھول تاشوں اور پھولوں کی بارش کے ساتھ ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس موقع پر سپریاسولے نے این سی پی پرکی جانے والی تنقید کے تعلق سے کہا کہ جمہوریت میں ہرکسی کو تنقید کرنے کا حق حاصل ہے، ہم ایک جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں اس لیے میں لوگوں کے اس جمہوری حق کی قدر کرتی ہوں۔سپریا سولے نے کہا کہ مہاراشٹر میں ایک ایک وزیرکے پاس پندرہ پندرہ محکمے ہیں۔ ضلع پریشد اور میونسپل کارپوریشن کے انتخابات نہیں ہوئے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ریاست کو اصل میں کون چلا رہا ہے؟ چوان صاحب نے اقتدار کی مرکزیت کو ختم کی تھی لیکن آج کی صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ پونے میں ایک کمشنر پورے کو شہر چلا رہا ہے۔ ایک شخص اتنے سارے کارپوریٹروں کا کام کر رہا ہے۔ ضلع پریشد کو ایک ہی شخص چلاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اقتدار ایک ہی جگہ مرکوز ہوکر رہ گیا ہے۔ یہ جمہوری طرزحکومت کے لیے کسی خطرے سے کم نہیں ہے۔

سپریاسولے نے کہا کہ پارٹی کے قومی صدر کے کاموں کو واضح طور پر تقسیم کردیا گیا ہے۔ میرا حلقہئ انتخاب چونکہ مہاراشٹر میں ہے اس لیے پارٹی کے تنظیمی امور کی ذمہ داری مجھ پر عائد ہوتی ہے۔ جبکہ دہلی میں لوک سبھا وراجیہ سبھاکی ذمہ داری پرفل پٹیل صاحب پر ہے۔ اس لیے تمام تر ذمہ داری اکیلے مجھ پر نہیں ہے۔ ہم ملک میں ٹیم ورک کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ سب کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ این سی پی نے بہت پہلے سے لوک سبھا کی تیاری شروع کردی ہے۔ اس حوالے سے کئی میٹنگیں بھی ہوچکی ہیں، اب آئندہ مہاوکاس اگھاڑی میں بات چیت ہوگی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading