ممکنہ شکست کے خوف سے مرکزی حکومت آمریت کا مظاہرہ کررہی ہے:مہیش تپاسے
پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے لیے حکومت ایجنڈا واضح کرے
ممبئی:نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے ترجمان مہیش تپاسے نے آج یہاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بی جے پی پرسخت تنقید کی اور کہا کہ چونکہ جمہوری طریقے سے اس کا اقتدار میں آنا ممکن نہیں ہے اسی لیے مرکزی حکومت کے ذریعے وہ آمریت کا مظاہرہ کررہی ہے۔پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے لیے ابھی تک کوئی ایجنڈا طے نہ کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ انڈیا اتحاد سے بری طرح خائف ہے۔
انہوں نے کہا کہ کہا کہ مرکزی حکومت نے 18 سے 22 ستمبر تک پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلایا ہے۔ اس اجلاس کی تفصیل ابھی تک عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کہ ون نیشن ون الیکشن کے ذریعے ملک کی منتخب حکومتوں کو گرانے کا ہی بی جے پی کا ایجنڈا ہے؟ کیا اس خصوصی اجلاس میں مراٹھا برادری کو ریزرویشن دینا ایجنڈا ہے؟ اس طرح کا کوئی بھی ایجنڈا حکومت کی جانب سے عوام کے سامنے نہیں آیا ہے۔ اس لیے یہ کہاجاسکتا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے بلایا گیا پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس ہڑبڑاہٹ میں لیا گیا فیصلہ ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو مرکزی حکومت کو عوام کے سامنے اجلاس کا ایجنڈا پیش کرنا چاہئے۔اس کے برعکس پارلیمنٹ کے ملازمین کو روایتی وردی کی جگہ کمل نشان والی وردی پہنائی گئی ہے جس اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت یہ بتاناچاہتی ہے کہ ہم ہر چیز پر اختیار رکھتے ہیں اور اسی اختیار کے تحت ہم پارلیمانی ملازمین کی وردی کو بھی اپنے سیاسی مقصد کے تحت استعمال کرسکتے ہیں۔جبکہ بی جے پیکو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی اس آمریت کو ختم کرنے کے لیے انڈیا اتحاد نے منصوبہ تیار کرلیا ہے۔
مہیش تپاسے نے مزید کہا کہ صرف پارلیمنٹ کے یونیفارم میں ہی کمل نہیں لایا گیا ہے بلکہ وہ تمام چیزوں پر اپنا نظریہ تھوپنے کی کوشش کررہے ہیں۔ غریب خواتین کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں،مودی حکومت کو جن کا جواب دینا چاہئے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ وہ مذہبی پولرائزیشن کے ذریعے ملک کا ماحول مزید زہرآلود کرنا چاہتے ہیں۔تپاسے نے کہا کہ ملک کے لوگوں کو وزیر اعظم نریندر مودی پر اب بھروسہ نہیں رہا، اس کے باوجود مرکزی حکومت کی جانب سے فیکٹر مینڈیٹ لانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ چونکہ آئندہ انتخابات میں مرکزی حکومت کے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے کا امکان نہیں ہے، اس لیے ان کا خیال ہے کہ حکومت کو آمریت کے ذریعے لانا چاہیے۔
