نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار نے ’سارتھی‘ اور اَنّا صاحب پاٹل مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے کام کاج کا جائزہ لیا
ممبئی: ڈپٹی وزیراعلیٰ اجیت پوار نے کہا ہے کہ اَنّا صاحب پاٹل مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کی جانب سے نافذ کی جانے والی ہر اسکیم کا فائدہ سماج کے مستحق اور اہل افراد تک پہنچنا چاہیے۔ ان اسکیموں کو شفاف اور مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحقین اس سے مستفید ہوسکیں۔ اس موقع پر انہوں نے چھترپتی شاہو مہاراج ریسرچ، ٹریننگ اینڈ ہیومن ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ (سارتھی) کے کام کا بھی تفصیلی جائزہ لیا۔
منترالیہ میں نائب وزیراعلیٰ کے دفتر کی کمیٹی ہال میں اَنّا صاحب پاٹل مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے کام کا جائزہ اجلاس ہوا، جس میں کارپوریشن کے صدر نریندر پاٹل، محکمہ مالیات کے ایڈیشنل چیف سکریٹری او پی گپتا، محکمہ منصوبہ بندی کے پرنسپل سکریٹری سوربھ وجے، محکمہ تعاون کے پرنسپل سکریٹری پروین دراڈے، منصوبہ بندی کے ڈپٹی سکریٹری ویویک گائیکواڑ کے علاوہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے کمشنر برائے تعاون دیپک ٹاورے، ڈپٹی وزیراعلیٰ کے سکریٹری ڈاکٹر راجیش دیشمکھ، کارپوریشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر وجے سنگھ دیشمکھ، بینک آف مہاراشٹر کے جنرل منیجر ارون کبّاڈے، کارپوریشن کے ڈپٹی جنرل منیجر آکاش مورے اور محکمہ تعاون کے ڈپٹی سکریٹری سنتوش پاٹل موجود تھے۔
کارپوریشن کا بنیادی مقصد معاشی طور پر پسماندہ طبقے کے تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں کو خود روزگار کے مواقع فراہم کرنا ہے۔ اس کے لیے انفرادی قرض سود اسکیم، گروپ قرض سود اسکیم اور گروپ پروجیکٹ قرض اسکیم جیسی متنوع اسکیمیں چلائی جاتی ہیں۔ اجیت پوار نے ہدایت دی کہ ان اسکیموں کے نفاذ میں کسی بھی سطح پر رکاوٹ نہیں آنی چاہیے، صحیح مستحقین کی نشاندہی کی جائے اور انہیں بروقت مالی مدد فراہم کی جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان اسکیموں کی تشہیر مؤثر انداز میں کی جائے تاکہ یہ سہولتیں ہر ضرورت مند تک پہنچ سکیں۔
نائب وزیراعلیٰ نے کہا کہ کارپوریشن کی اسکیموں سے نوجوانوں کو کاروبار، صنعت اور صنعت کاری کی سمت آگے بڑھنے کا حوصلہ ملتا ہے، جس کے نتیجے میں ریاست میں خود روزگار کے مواقع بڑھتے ہیں اور معیشت کو نئی رفتار ملتی ہے۔ اس لیے یہ اسکیمیں زیادہ فعال طریقے سے نافذ کی جائیں تاکہ ان کے نتائج سماج کے نچلے طبقوں تک پہنچ سکیں۔ اسی دوران اجیت پوار نے ’سارتھی‘ کے کام کا بھی جائزہ لیا، جہاں طلبہ کے ہنر مندی کے فروغ، وظیفہ اسکیم، مقابلہ جاتی امتحانات کی تیاری، تحقیق، سوادھار اسکیم، غیر ملکی وظیفہ اسکیم اور ہاسٹل جیسی سہولتوں پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کے روشن مستقبل کے لیے ہنر مندی اور تربیت کو اولین ترجیح دی جائے اور یقین دہانی کرائی کہ بچوں کی تعلیم و ترقی کے لیے فنڈز کی کمی کسی بھی حال میں محسوس نہیں ہونے دی جائے گی۔