ریاست کے نیم سرکاری و امدادی تعلیمی اداروں کے تدریسی و غیر تدریسی ملازمین کو راحت

ممبئی: ریاست کے نیم سرکاری اور امدادی تعلیمی اداروں میں کام کرنے والے تدریسی وغیر تدریسی عملہ کو ریاستی حکومت کی جانب سے راحت دیئے جانے پرغور کیا جا رہا ہے۔ اس کے تحت یکم نومبر 2005 سے قبل کے جاری کردہ سرکولر کے مطابق ملازمت جوائن کرنے والوں کو انہیں پرانے پنشن کے تعلق سے آئندہ 3 ماہ میں فیصلہ کیا جائے گا۔ یہ اطلاع ریاست کے وزیر خزانہ اجیت پوار نے اسمبلی میں ایک سوال کے جواب میں دی ہے۔

نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر خزانہ اجیت پوار نے آج اسمبلی میں نیم سرکاری اور امدادی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کو پرانی پنشن اسکیم کا اختیار حاصل کرنے سے متعلق سوال کا جواب دیا۔ نائب وزیر اعلیٰ نے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں 1 نومبر 2005 سے پہلے کے سرکولر کے بعد سرکاری ملازمت میں شامل ہونے والے سرکاری ملازمین کو پرانی پنشن اسکیم کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے میں صرف سرکاری افسران اور ملازمین کو مرکزی حکومت کے مطابق مہاراشٹر سول ریٹائرمنٹ رولز، 1982 اور مہاراشٹر سول ریٹائرمنٹ پنشن رولز، 1984 اور جنرل پروویڈنٹ فنڈ رولز کی دفعات کو لاگو کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار نے یہ بھی کہا کہ نیم سرکاری اور امدادی اداروں میں کام کرنے والے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے معاملے میں اس فیصلے کو نافذ نہیں کیا گیا ہے کیونکہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے۔

زیرسماعت معاملے کے بارے میں پوچھےجانے پرسوال پر وضاحت دیتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ایسے تعلیمی ادارے جنہیں حکومت تسلیم کرتی ہے اور انہیں 100 فیصد سبسڈی ملتی ہے، امداد یافتہ ادارے کہلاتے ہیں۔ یہ فیصلہ بامبے ہائی کورٹ نے 30 اپریل 2019 میں دیا تھا۔ حکومت کے فیصلے کو اساتذہ کی تنظیموں نےسپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ ہوگا، ریاستی حکومت اس کے مطابق کارروائی کرے گی۔

اجیت پوار نے کہا کہ ملک اور ریاست کی معاشی حالت کے پیش نظر اس وقت کی مرکزی حکومت نے پرانی پنشن اسکیم کو بند کرکے نئی پنشن اسکیم شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ بعد میں مختلف ریاستوں کے سرکاری افسران اور ملازمین نے پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ مرکزی حکومت اس بارے میں مثبت ہے۔ ریاستی حکومت نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے بھی معلومات طلب کی ہے۔ ریاستی حکومت نے افسران اور ملازمین کے مطالبات کا مطالعہ کرنے اور سفارشات دینے کے لیے ریٹائرڈ انتظامی افسران کی ایک کمیٹی بھی مقرر کی ہے۔

ناگپور کے سرمائی اجلاس میں پرانی پنشن اسکیم کے تناظر میں ریاستی حکومت کے رول کو لے کر ایک بیان دیا گیا ہے۔ پرانی پنشن اسکیم کو لاگو کرنے کے سلسلے میں کچھ ریاستوں کی طرف سے لئے گئے فیصلوں کے بارے میں بھی جانکاری مانگی گئی ہے۔ موجودہ حکومت افسران اور ملازمین کے مفاد کو پیشِ نظر رکھتی ہے اس لیے ان کے مطالبات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading