مانسون کے دوران سیاحوں کی حفاظت کے لیے ریاستی حکومت کی کیا پالیسی ہے؟: نانا پٹولے
لوناولا کے بھوشی ڈیم میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی موت سنگین واقعہ ہے
ریاستی حکومت پوئی کے جئے بھیم نگر کے لوگوں کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے، اسپیکر کے حکم پر بھی کوئی کارروائی نہیں
ممبئی: لوناولا کے بھوشی ڈیم علاقے میں ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی موت کا واقعہ انتہائی افسوسناک ہے۔ یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، مانسون کے دوران اس طرح کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ریاستی حکومت نے سیاحوں کی حفاظت کے لیےکیا کوئی پالیسی یا نظام بنایا ہے تاکہ ایسے حادثات نہ ہوں؟ لوناولا کی طرح ریاست کے دیگر حصوں میں بھی مانسون کے دوران سیاحوں کی بڑی تعداد آتی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مطالبہ کیا کہ حکومت بتائے کہ ریاستی حکومت نے مانسون کے دوران سیاحوں کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں؟
پیر کو اسمبلی میں تحریک التوا کے دوران نانا پٹولے نے حکومت کی توجہ لوناولا واقعہ کی طرف مبذول کرائی۔ انہوں نے کہا کہ مانسون کے دوران سیاح ریاست کے دیگر حصوں میں ڈیموں کا رخ کرتے ہیں، لیکن ان کی حفاظت کا خیال نہیں رکھا جاتا ہے۔ جبکہ ایسے واقعات تواتر سے پیش آتے رہتے ہیں۔
نانا پٹولے نے کہا کہ پوئی کے جئے بھیم نگر میں پسماندہ طبقے کے 650 خاندان اب بھی بارش کے دوران سڑکوں پر رہ رہے ہیں۔ اس معاملے میں اسمبلی اسپیکر راہل نارویکر نے ہدایت دی ہے کہ ان کی رہائش کا انتظام کیا جائے لیکن یہ خاندان اب بھی کھلے میں رہنے پر مجبور ہیں۔ اگر حکومت بلڈرز کے ساتھ ہے تو انہیں صاف صاف کہنا چاہیے۔ ناناپٹولے نے کہا کہ ملک کے مالیاتی دارالحکومت میں اگر لوگ کیڑے مکوڑوں کی مانند رہنے پر مجبورہ ہیں تو یہ کسی طور درست نہیں ہے۔ ہم نے اتوار کو جئے بھیم نگر کا دورہ کیا لیکن وہاں کی صورتحال جوں کی توں ہے۔ ریاستی حکومت کسی بھی معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ نانا پٹولے نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت اسمبلی اسپیکر کے حکم پر عمل نہیں کرتی ہے تو یہ ایک سنگین معاملہ ہے۔