ریاستی صدر ششی کانت شندے کا آئندہ تمام انتخابات مشترکہ طور پر لڑنے کا عزم
ممبئی: مہاراشٹر میں ہونے والے کارپوریشن انتخابات سے قبل این س پی- ایس پی کو سیاسی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (اے) ، ریپبلکن پارٹی (کھوریپ) اور بلیک پینتھر پارٹی نے باضابطہ طور پر این سی پی-ایس پی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ ان پارٹیوں کی جانب سے یہ فیصلہ ریاست میں ترقی پسند اور سماجی انصاف پر مبنی سیاست کو مضبوط کرنے کے مقصد سے کیا گیا ہے۔ اس موقع پر این سی پی-ایس پی کے ریاستی صدر ششی کانت شندے نے حامی پارٹیوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مہاراشٹر کی ترقی پسند سیاسی روایت کو آگے بڑھانے کے لیے یہ اتحاد نہایت اہم ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ آنے والے تمام انتخابات باہمی ہم آہنگی اور مشترکہ حکمتِ عملی کے تحت لڑے جائیں گے، جس سے اتحاد مزید مستحکم ہوگا۔
ممبئی میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بلیک پینتھر پارٹی کے بانی صدر سبھاش دیسائی، این سی پی-ایس پی کے ریاستی ترجمان و تنظیمی سیکریٹری وکاس لاوانڈے، ممبئی ڈویژنل الیکشن انچارج صدر ملند کامبلے، نائب انچارج سہیل صوبیدار، ریاستی ترجمان مہیش چوہان اور ریپبلکن پارٹی آف انڈیا (اے) کے مہاراشٹر صدر بالاصاحب پوار بھی موجود تھے۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ششی کانت شندے نے کہا کہ آنے والے انتخابات عوامی مسائل پر مبنی ہوں گے اور کسی خاص ایجنڈے کے تحت نہیں بلکہ عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر لڑے جائیں گے۔ انہوں نے ممبئی کے انتخابات کو غیر معمولی طور پر اہم قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ دیگر ریاستوں سے رہنماؤں کو بلا کر انتخابی مہم چلانے کا مقصد کیا لسانی، علاقائی اور اب مذہبی تقسیم کو ہوا دینا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کی سیاست ممبئی اور مہاراشٹر کے اتحاد کو نقصان پہنچا سکتی ہے، مگر این سی پی-ایس پی ریاست میں رہنے والے تمام طبقات کو ساتھ لے کر ہی انتخابی میدان میں اترے گی۔
پارٹی چھوڑنے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ششی کانت شندے نے کہا کہ اگر کوئی فرد پارٹی چھوڑتا ہے تو اس سے تنظیم پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا۔ خالی ہونے والی جگہوں کو پُر کر کے پوری تیاری کے ساتھ انتخابات کا سامنا کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی چھوڑنا ہر فرد کا ذاتی فیصلہ ہوتا ہے اور کسی کو زبردستی روکا نہیں جاتا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ممبئی میں پارٹی کو مجموعی طور پر 11 نشستیں ملی ہیں، جن میں سے 4 نشستوں پر این سی پی-ایس پی خود اپنے بل بوتے پر مقابلہ کر رہی ہے۔ کچھ افراد نے امیدوار نہ بنائے جانے پر پارٹی چھوڑ دی، تاہم کئی اہل اور مضبوط کارکنوں کو موقع نہ ملنے پر انہوں نے افسوس کا اظہار بھی کیا۔
وَنچت کے ساتھ انتخابی ہم آہنگی پر بات کرتے ہوئے ششی کانت شندےنے کہا کہ کولہاپور، جلگاؤں، سانگلی، امراؤتی سمیت تین سے چار مقامات پر مشترکہ طور پر انتخابات لڑے جائیں گے۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ پارٹی میں بغاوت کی کوئی صورت حال ہے اور کہا کہ امیدواروں کی دستبرداری کے بعد انتخابی تصویر مکمل طور پر واضح ہو جائے گی۔ مراٹھا میئر سے متعلق حالیہ بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاست مذہب اور زبان کے گرد گھوم رہی ہے، جو محض ایک سیاسی حکمتِ عملی ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی پارٹیوں سے اپیل کی کہ وہ اپنی پوزیشن واضح کریں اور عوام کے سامنے شفاف سیاست پیش کریں۔
NCP-SP Urdu News 31 Dec. 25.docx