بی جے پی اب سنگھ کے کارکنوں کی نہیں، باہر سے آئے لوگوں اور کارپوریٹ طاقتوں کی پارٹی بن گئی
ممبئی/بلڈھانہ: مہاراشٹر میں جاری کارپوریشن انتخابات کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی میں شدید انتشار اور خلفشار کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ پارٹی کے لیے برسوں محنت کرنے والے کارکنوں کو یکسر نظرانداز کر کے، عین انتخاب کے وقت پر دوسری سیاسی پارٹیوں سے آنے والوں کو ٹکٹ دینے کے فیصلے نے بی جے پی کے پرانے اور وفادار کارکنوں میں شدید ناراضگی پیدا کر دی ہے۔ اس صورت حال پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ’کانگریس مکت بھارت‘ کا نعرہ لگانے والی بی جے پی آج ’کارکن مکت بی جے پی‘ بن چکی ہے۔
بلڈھانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ہرش وردھن سکپال نے کہا کہ کارپوریشن انتخابات میں بی جے پی کے اندر ٹکٹ تقسیم کو لے کر جو بدنظمی سامنے آئی ہے، وہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں اور زیادہ واضح ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب اپنے اصل نظریاتی کارکنوں اور آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کی پارٹی نہیں رہی، بلکہ یہ ایک ایسے سیاسی ڈھانچے میں بدل چکی ہے جس پر باہر سے آئے افراد اور وقتی مفادات رکھنے والے لوگ حاوی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ جس بی جے پی کو کبھی ناگپور کے ریشم باغ سے چلایا جاتا تھا، اب وہ دن دور نہیں جب اس پارٹی کا کنٹرول سنگھ کے دفتر کے بجائے اڈانی اور امبانی جیسے کارپوریٹ گھروں کے ہاتھوں میں ہوگا۔ بی جے پی اب ایک نظریاتی پارٹی نہیں بلکہ سرمایہ دارانہ مفادات کے تابع سیاسی پلیٹ فارم بن چکی ہے۔
ہرش وردھن سپکال نے اجیت پوار کی قیادت والی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی پر بھی شدید تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پارٹی اب سماج دشمن عناصر کا گڑھ بنتی جا رہی ہے۔ اس پارٹی میں ماضی کے مافیا عناصر کو شامل کیا گیا، مراٹھواڑہ میں ایک بدنام ’ورلی کنگ‘ کو داخلہ دیا گیا اور کویتا گینگ سے وابستہ افراد بھی پارٹی میں سرگرم ہیں۔ سپکال نے مزید دعویٰ کیا کہ نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے ستارا ضلع میں واقع ایک فارم ہاؤس سے منسلک ڈرگس کمپنی کا ایک ڈسٹری بیوٹر اجیت پوار کی پارٹی کا کارکن پایا گیا ہے۔ نئے سال کے حوالے سے کانگریس کی حکمت عملی بیان کرتے ہوئے ہرش ودرھن سپکال نے کہا کہ 2026 کا سال کانگریس کے لیے تنظیمی استحکام اور نظریاتی مضبوطی کا سال ہوگا، جس کی تیاری دسمبر سے ہی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی میں بڑے پیمانے پر شمولیتیں ہو رہی ہیں، کارکنوں میں نیا حوصلہ اور اعتماد ہے، اور آئندہ سال نظریاتی ہم آہنگی، تنظیمی اتحاد اور عوامی رابطے کو مزید مضبوط کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس آنے والے وقت میں نہ صرف سیاسی جدوجہد تیز کرے گی بلکہ نظریے کی بنیاد پر سماج کو جوڑنے کا کام بھی پوری قوت سے انجام دے گی۔
MPCC Urdu News 31 December 25.docx
