فیصلہ فوری واپس لیا جائے، این سی پی – ایس پی کا مطالبہ
ممبئی: ریاستی حکومت کی جانب سے مراٹھی میڈیم اسکولوں میں پہلی جماعت سے ہندی زبان کو لازمی قرار دینے کے فیصلے پر این سی پی – ایس پی نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کے ترجمان اور ممبئی یوتھ ونگ کے صدر ایڈووکیٹ امول ماتِلے نے اس فیصلے کو مہاراشٹر کی لسانی، ثقافتی اور تعلیمی خودمختاری پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے وزیر برائے اسکولی تعلیم کو ای میل کے ذریعے ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں انہوں نے واضح طور پر مطالبہ کیا ہے کہ اگر یہ فیصلہ فوری طور پر واپس نہ لیا گیا تو پارٹی نوجوانوں کی قیادت میں منفرد انداز میں احتجاجی تحریک شروع کرے گی۔
ایڈووکیٹ ماتِلے نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف مراٹھی زبان کی توہین ہے بلکہ نئی نسل کو اپنی مادری زبان سے دور کرنے کی ایک منظم سازش ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مرکز نے حال ہی میں مراٹھی کو "کلاسیکی زبان” کا درجہ دیا ہے، جس کے بعد ریاستی حکومت پر لازم تھا کہ وہ مراٹھی کے فروغ کے لیے مؤثر پالیسیاں نافذ کرے، لیکن افسوس کہ حکومت دوسری زبان کو فروغ دے رہی ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی حکومت نے پہلے بارہویں جماعت تک تمام مضامین کے طلباء کے لیے مراٹھی مضمون کو لازمی قرار دیا تھا، لیکن آج تک اس پر مؤثر عملدرآمد نہیں ہوا، اور اب مراٹھی اسکولوں میں ہندی کو لازمی کر کے مراٹھی کو ثانوی حیثیت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مراٹھی صرف ایک زبان نہیں بلکہ مہاراشٹر کی ثقافت، تاریخ اور سماجی زندگی کی روح ہے، جو نسل در نسل ہماری روایات اور اقدار کی وارث رہی ہے۔ اس زبان کا تحفظ اور فروغ ہر ذمہ دار حکومت کا فریضہ ہے، لیکن موجودہ حکومت اس ذمہ داری سے پہلوتہی کر رہی ہے۔
ایڈووکیٹ ماتِلے نے حکومت سے پانچ اہم مطالبات بھی پیش کیے: مراٹھی میڈیم اسکولوں میں ہندی کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے، بارہویں جماعت تک مراٹھی مضمون کو تمام طلباء کے لیے لازمی قرار دیا جائے، مراٹھی کے کلاسیکی درجہ کے تحت پالیسی ساز اقدامات کیے جائیں، تمام سرکاری و نیم سرکاری اسکولوں میں مراٹھی لائبریریاں، ادبی میلے اور لسانی سرگرمیاں شروع کی جائیں، اور نصاب میں مراٹھی زبان کی بنیاد محفوظ رکھنے کے لیے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔ ایڈووکیٹ ماتلے نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے بروقت مؤثر اقدام نہ کیا تو نوجوان نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کی جانب سے ریاست بھر میں منفرد انداز میں احتجاجی تحریک چلائی جائے گی۔
