اے آئی ٹیکنالوجی کے ذریعے زراعت میں انقلاب آئے گا: شرد پوار

بارامتی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی شردچندر پوار کے قومی صدر شرد پوار نے کہا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کی مدد سے زراعت کے شعبے میں انقلاب برپا ہوگا۔ انہوں نے یہ بات بارامتی میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

شرد پوار نے کہا کہ گنے کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے اور اس میں موجود چینی کے تناسب کو بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر ہم گنے کی پیداوار کو بہتر بنانے کے ساتھ اس میں چینی کا تناسب بھی بڑھا سکیں، تو اس سے گنے کی کاشتکاری زیادہ فائدہ مند اور منافع بخش ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ سب کچھ اے آئی ٹیکنالوجی کی مدد سے ممکن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ٹیکنالوجی متعارف کرانے کی کوشش کافی عرصے سے جاری تھی، اور اب خوشی کی بات یہ ہے کہ جنوبی مہاراشٹر کے کئی شوگر ملز اس میں شمولیت کے لیے تیار ہیں۔ ان کی تجاویز کی روشنی میں آج ایک اہم اجلاس منعقد ہو رہا ہے، جس میں تقریباً 300 نمائندے شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں انہیں اس جدید ٹیکنالوجی سے آگاہ کیا جائے گا۔

شرد پوار نے اپنی گفتگو میں مرہٹواڑہ اور ودربھ کے بعض اضلاع، خصوصاً بیڈ اور امراوتی کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان علاقوں کے مسائل کی مکمل معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ “ہماری کوشش ہوگی کہ مرکز کی توجہ اس جانب مبذول کرائی جائے اور ان مسائل کے حل کے لیے مناسب حکمتِ عملی بنائی جائے۔ ہم حکومت سے اصرار کریں گے کہ وہ اس سلسلے میں موثر پالیسی مرتب کرے اور عملی اقدامات اٹھائے۔ بیڑ ضلع کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے، شرد پوار نے کہا کہ وہ بیڈ کے حالات سے بخوبی واقف ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں جس طرح کے مسائل پیدا ہوئے ہیں، وہ ماضی میں کبھی نہیں دیکھے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے ایک پُرامن اور ہم آہنگی سے بھرپور علاقہ رہا ہے۔ جب میں خود اس ضلع کی نگرانی کر رہا تھا، تو یہاں سے ایک ہی پارٹی کے چھ چھ نمائندے منتخب ہوتے تھے، اور علاقے میں ایک مثبت اور ہم آہنگ ماحول پایا جاتا تھا۔ لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں بعض افراد نے اقتدار کا غلط استعمال شروع کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صورتحال خراب ہوتی جا رہی ہے،” انہوں نے کہا۔ پوار نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ “اس معاملے کو سیاسی وابستگیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے، اور جو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لے، یا علاقے کا امن خراب کرنے کی کوشش کرے، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کچھ عناصر اس صورتحال کا غلط فائدہ اٹھا رہے ہیں، اور حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرے۔ پوار نے کہا کہ اگر کوئی شخص اقتدار کا غلط استعمال کر کے عوام میں مذہبی یا نسلی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تو حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کے خلاف سخت اقدامات کرے، تاکہ ریاست میں امن و ہم آہنگی قائم رہے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading