گزشتہ آٹھ برس میں بی جے پی نے سانگلی–میرج–کُپواڑ کو کچھ نہیں دیا: جینت پاٹل

بی جے پی نے سانگلی کے عوام سے محض جھوٹے وعدے کیے اور انہیں دھوکہ دیا

سانگلی: سانگلی–میرج–کُپواڑ میونسپل کارپوریشن انتخابات کی مہم کے آخری دن مہاوکاس اگھاڑی نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے ذریعے مہم کی تکمیل کی۔ اس موقع پر نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کے سینئر لیڈر جینت پاٹل نے بی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِ اعظم نریندر مودی نے ’’سانگلی کروں چانگلی‘‘ کا نعرہ دیا تھا، مگر مقامی بی جے پی قیادت وزیرِ اعظم کے ان الفاظ کو عملی شکل دینے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوئی ہے۔

جینت پاٹل نے کہا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران بی جے پی کی حکومت نے سانگلی، میرج اور کُپواڑ کو کچھ بھی نہیں دیا۔ آج شہر بھر میں پوسٹر لگے ہیں جن میں لکھا ہے کہ ’تم نے سانگلی کی حالت خراب کی، اب سانگلی والے تم سے حساب لیں گے‘۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے سانگلی کے عوام سے محض جھوٹے وعدے کیے اور انہیں دھوکہ دیا۔

بی جے پی کے منشور پر تنقید کرتے ہوئے جینت پاٹل نے کہا کہ منشور میں سانگلی کو ’سیف سٹی‘ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ ابھی سال شروع ہوئے صرف 12 – 13 دن ہوئے ہیں اور ۱۲-۱۳ دنوں میں ہی شہر میں تین قتل ہو چکے ہیں اور گزشتہ ایک سال میں قتل کی تعداد 60 سے 65 تک جا پہنچی ہے۔ انہوں نے کہا کہ منشور میں ہوائی اڈے اور لاجسٹک ہب جیسے وعدے کیے گئے ہیں، مگر کیا ان منصوبوں کے لیے زمین دستیاب ہے؟ اسی طرح آئی ٹی پارک کے وعدے ہر انتخاب میں کیے جاتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ مہاراشٹر میں آخر کتنے آئی ٹی پارک بنائے جائیں گے، اس کی کوئی وضاحت نہیں۔

انہوں نے خواتین کے لیے عوامی بیت الخلا، سیلاب کنٹرول منصوبوں اور نالوں کے لیے مختص 591 کروڑ روپے کے فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ رقم سیلابی پانی کے ڈائیورژن کے لیے نہیں ہے، پھر عوام کو گمراہ کیوں کیا جا رہا ہے؟ جینت پاٹل نے کہا کہ بی جے پی کے منشور میں شامل بیشتر کام دراصل کانگریس اور نیشنلسٹ کانگریس کے ادوار میں شروع کیے گئے تھے، جبکہ بی جے پی حکومت نے صرف ان منصوبوں کے افتتاح کا کریڈٹ لیا۔انہوں نے کہا کہ اگر مہاوکاس اگھاڑی کی حکومت آت ہے تو شہر میں بڑھتی ہوئی منشیات کی لعنت پر قابو پایا جائے گا۔ بند پڑے تمام سی سی ٹی وی کیمروں کو دوبارہ فعال کیا جائے گا اور پورے شہر کو سی سی ٹی وی نگرانی میں لایا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ کچرا مینجمنٹ اور شہری صفائی کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے اور یہ کام ایک عوامی تحریک کے طور پر انجام دیا جائے گا۔

جینت پاٹل نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی کی یہ لڑائی محض بی جے پی کے خلاف نہیں بلکہ سانگلی شہر کی مجموعی ترقی کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگھاڑی نے گراس روٹ سطح پر کام کیا ہے، اسی لیے انہیں یقین ہے کہ اتحاد کے 42 سے 43 امیدوار کامیاب ہوں گے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ سرپرست وزیر اگرچہ 55 امیدواروں کی جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ بی جے پی کے 30 سے زیادہ امیدوار بھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

NCP-SP Urdu News 13 Jan. 26.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading