سپریا سولے کی ڈیجیٹل سیکیورٹی پر زور: واٹس ایپ ہیک ہونے کے بعد احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل
ممبئی: نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد چندر پوار) کی قومی ورکنگ صدر اور رکن پارلیمنٹ سپریا تائی سولے نے ڈیجیٹل سیکیورٹی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے حوالے سے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ سپریا سولے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تھا اور اس تجربے کے بعد وہ تمام لوگوں کو محتاط رہنے کی تاکید کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ استعمال کرتے وقت دو فیکٹر تصدیق (Two-Factor Authentication) کو ضرور فعال کریں اور اپنا پاسورڈ یا او ٹی پی کسی سے شیئر نہ کریں۔ سپریا سولے نے کہا کہ ڈیجیٹل سیکیورٹی ایک اہم معاملہ ہے اور ہمیں اس کا خیال رکھنا چاہیے، خاص طور پر جب ہم ڈیجیٹل پلیٹ فارمز استعمال کر رہے ہوں۔
سپریا سولے نے بتایا کہ ہیکر نے ان سے اکاؤنٹ واپس کرنے کے بدلے 400 ڈالرس کا مطالبہ کیا تھا لیکن انہوں نے ہیکر کو کوئی رقم ادا نہیں کی۔ پولیس اور واٹس ایپ ٹیم کی مدد سے ان کا اکاؤنٹ بحال کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے اس تعاون کے لیے واٹس ایپ ٹیم اور پونے دیہی پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ سپریا سولے نے کہا کہ اس واقعے کے دوران اگر کسی نے انہیں پیغام بھیجا ہو اور انہیں جواب نہ ملا ہو تو وہ اس کے لیے معذرت خواہ ہیں۔
سپریا سولے نے مزید کہا کہ ایک واقف کار کا میسج کھولنے کے بعد ان کا فون بند ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں ان کا واٹس ایپ ہیک ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے قریبی دو سے تین افراد کے موبائل فون بھی ہیک ہو گئے تھے، جن میں پارٹی کی ریاستی جنرل سیکریٹری ادیتی نالاوڈے کا موبائل بھی شامل تھا۔ ہیکرز نے ان کے اور ادیتی نالاوڈے کے موبائل سے 10 ہزار روپے بھیجنے کا پیغام بھیجا تھا۔
سپریا سولے نے یہ بھی کہا کہ جب بھی وہ پارلیمنٹ میں مرکزی حکومت کے خلاف بات کرتی ہیں، ان کے شوہر سدانند سولے کو محکمہ انکم ٹیکس کی طرف سے نوٹس موصول ہوتا ہے۔ انہوں نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہر بار نوٹس کی تاریخ بدلی جاتی ہے، لیکن نوٹس کا متن وہی رہتا ہے؟
ریاست میں مراٹھا ریزرویشن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سپریا سولے نے کہا کہ ریاستی حکومت کو اس مسئلے پر خصوصی اجلاس بلانا چاہئے اور اس سیشن میں بحث کے بعد ریزرویشن سے متعلق بل مرکزی حکومت کو بھیجے جانے چاہئیں۔ سپریا سولے نے ادھو ٹھاکرے، امول مٹکری، جتیندر اوہاڈ اور راج ٹھاکرے کے قافلے پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ حملہ ان کی پارٹی کی جانب سے ہوا ہوتا تو وہ سخت کارروائی کرتیں۔
NCP-SP Urdu News 12 August 24.docx