عدالتی کارروائی کے نام پر 48 گھنٹے پہلے انتخابات روکنا انتخابی کمیشن کی ناکامی ہے: تپاسے

امیدواروں کے انتخابی اخراجات، ووٹروں کی واپسی اور دو مرتبہ پولنگ کے انتظامات پر کمیشن فوری وضاحت جاری کرے

ممبئی: این سی پی- ایس پی کے چیف ترجمان مہیش تپاسے نے ریاست کی 246 میونسپل کونسلوں میں سے کئی مقامات پر اچانک پولنگ ملتوی کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کو فوری طور پر صاف اور جامع وضاحت پیش کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت میں زیرِ سماعت تکنیکی معاملات کی وجہ سے انتخابات کو عین پولنگ سے 48 گھنٹے پہلے مؤخر کرنا نہ صرف غیر معمولی ہے بلکہ اس نے امیدواروں اور ووٹرز، دونوں کو شدید الجھن میں مبتلا کر دیا ہے۔

تپاسے نے کہا کہ کئی میونسپل کونسلوں میں میئر کے فارم، دستبرداری یا جانچ پڑتال کے معاملات عدالت میں زیرِ بحث ہونے کی وجہ سے انتخابات کو 20 دسمبر تک ملتوی کر دیا گیا ہے، مگر الیکشن کمیشن نے اب تک کوئی واضح ہدایات جاری نہیں کیں۔ ان کے مطابق سب سے عجیب صورتحال وہاں پیدا ہوئی ہے جہاں ایک ہی وارڈ کے حصّہ ’ا‘ کی ووٹنگ 2 دسمبر کو اور اسی وارڈ کے حصّہ ’ب‘ کی ووٹنگ 20 دسمبر کو رکھی گئی ہے، جس کا کوئی منطقی جواز سمجھ میں نہیں آتا۔ ان کا کہنا تھا کہ امیدواروں کے لیے اخراجات کی مقررہ حد بھی ایک بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے، کیونکہ اگر 20 دن مزید انتخابی مہم چلانا پڑے تو اس خرچ کا حساب کس طرح رکھا جائے؟ روزانہ کا خرچ کیسے درج کیا جائے؟ اور پھر یہ سب الیکشن کمیشن کو کس بنیاد پر دکھایا جائے؟ تپاسے نے کہا کہ کمیشن کو اس بارے میں فوری رہنمائی جاری کرنی چاہیے تاکہ امیدوار قانونی دشواریوں کا شکار نہ ہوں۔

مہیش تپاسے نے ووٹرز کے حوالے سے بھی سنگین سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک ہی وارڈ کے حصّہ ’ا‘ میں ووٹنگ کل ہو رہی ہے اور حصّہ ’ب‘ کے لیے ووٹرز کو 20 دسمبر کو دوبارہ بلایا جا رہا ہے، تو کیا یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ ووٹر اتنے وقفے کے بعد دوبارہ آکر ووٹ ڈالیں گے؟ کیا ووٹرز کا جوش برقرار رہے گا؟ اور اگر پولنگ دو بار ہوگی تو کیا سرکاری تعطیل بھی دو مرتبہ دی جائے گی؟ انہوں نے کہا کہ انتخابی انتظامات کو یوں غیر یقینی حالت میں چھوڑ دینا ریاست کی جمہوری ساکھ کے لیے نقصان دہ ہے اور الیکشن کمیشن کو اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے فوری طور پر واضح احکامات جاری کرنا ہوں گے۔ تپاسے نے مطالبہ کیا کہ کمیشن اس بات کی وضاحت کرے کہ انتخابات اس طرح کیوں تقسیم کیے گئے ہیں، ملتوی کرنے کا معیار کیا ہے، اور عوام کو کس اصول پر دو مختلف تاریخوں پر ووٹ ڈالنے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک الیکشن کمیشن شفاف وضاحت جاری نہیں کرتا، تب تک عوام اور امیدوار دونوں کی بے چینی برقرار رہے گی۔

NCP-SP Urdu News 1 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading