مہایوتی حکومت ماب لنچنگ و فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھا کر اس کا سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے: نسیم خان

ممبئی: مہاراشٹر کانگریس کے کارگزار صدر اور سابق وزیر محمد عارف نسیم خان نے آج ریاست کی مہایوتی حکومت پر ماب لنچنگ اور فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایکناتھ شندے حکومت ریاست میں فرقہ وارانہ فسادات اور ماب لنچنگ جیسے واقعات کو ہوا دے کر ریاست میں پولرائزیشن کی سیاست کرنا چاہتی ہے تاکہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں وہ اس کا سیاسی فائدہ حاصل کر سکے۔

نسیم خان نے اپنے بیان میں موب لنچنگ کے حالیہ واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک معمر مسلم شخص کو محض گائے کا گوشت لے جانے کے شبہ میں کچھ مشتعل نوجوانوں نے بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اس صریح ظلم و جارحیت کے باوجود ملزمین کے خلاف اول تو پولیس میں ایف آئی آر درج کرانے میں دشواری ہوئی اور جب یہ درج ہوئی تو بے اثر و ہلکی دفعات کے تحت، جس کی وجہ سے ملزمین کو ایک ہی دن میں ضمانت بھی مل گئی۔

نسیم خان نے سوال اُٹھایا کہ جب ان ملزمین کے ذریعے فرقہ وارانہ کشیدگی اور ظلم و جارحیت صریح طور پر عیاں ہے تو پھر انہیں ایسی دفعات کے تحت گرفتار کیوں نہیں کیا گیا جس میں انہیں ضمانت ملنی مشکل ہوتی؟ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ماب لنچنگ کا یہ واقعہ ایک منصوبہ بند کوشش کے تحت تھا اور اس کے پسِ پشت وہ فرقہ پرست لیڈران ہیں جو فرقہ وارانہ کشیدگی کے ذریعے سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

کانگریس کے لیڈر نے احمد نگر میں بی جے پی لیڈر نتیش رانے کی جانب سے ایک پروگرام میں دیے گئے مسلم دشمنی پر مبنی بیان کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی، جس میں رانے نے مسلمانوں کو مسجد سے نکال کر مارنے کی دھمکی دی تھی۔ نسیم خان نے اس بیان کو ممبئی کی زبان میں ’دھونس بازی‘ سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی حرکتیں سماج میں نفرت اور عدم برداشت کو بڑھاوا دیتی ہیں، جو کہ انتہائی قابل مذمت ہیں اور ریاست کی عوام اس طرح کی دھکمیوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گی۔

نسیم خان نے مزید کہا کہ حالیہ واقعات اس بات کی کھلی عکاسی کرتے ہیں کہ مہاراشٹر کی مہا یوتی حکومت فرقہ وارانہ تشدد اور ماب لنچنگ کا سہارا لے کر ریاست کا ماحول پراگندہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ اسمبلی الیکشن میں وہ اس کا سیاسی فائدہ حاصل کر سکے۔ مگر اسے معلوم ہونا چاہئے کہ اب ان کی فرقہ پرستی کے دن لد چکے ہیں، اب عوام انہیں اپنے ووٹوں سے ایسا سبق سکھائے گی کہ وہ نفرت و فرقہ پرستی بھول جائیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست کے عوام ان ہتھکنڈوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور آئندہ دو ماہ میں آنے والے اسمبلی انتخابات میں عوام انہیں منہ توڑ جواب دیں گے اور اقتدار سے بے دخل کر دیں گے۔

نسیم خان نے کہا کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے والے عناصر کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور کانگریس پارٹی ایسے عناصر کے خلاف پوری قوت سے کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاں کی عوام ہمیشہ سے امن اور بھائی چارے کے ساتھ رہنے والی ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر فرقہ وارانہ طاقتوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading