یہ اقتدار کی جنگ نہیں بلکہ جمہوریت بچانے کی لڑائی ہے: ہرش وردھن سپکال
شفاف، غیر جانبدار اور خوف سے پاک انتخابات پر ریاست میں عملاً تالا لگا دیا گیا ہے
اہلیہ نگر/ممبئی: مہاراشٹر میں میونسپل انتخابات کے دوران اقتدار میں بیٹھی پارٹی کی جانب سے منظم غنڈہ گردی، دھونس اور دباؤ کے الزامات عائد کرتے ہوئے مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ یہ محض اقتدار کا کھیل نہیں بلکہ جمہوریت کو بچانے کی کانگریس کی فیصلہ کن لڑائی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پولیس مشینری، انتظامیہ اور الیکشن کمیشن عملاً اقتدار والوں کے آلۂ کار بن چکے ہیں، جس کے نتیجے میں آزاد، منصفانہ اور خوف سے پاک انتخابات کا تصور پامال ہو گیا ہے۔
اہلیہ نگر میں مہانگر پالیکا انتخابات کے سلسلے میں انتخابی دورے کے دوران منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ ریاست بھر میں امیدواروں کو کھلے عام دھمکایا جا رہا ہے، کہیں پیسے کا لالچ دے کر نامزدگی داخل نہیں کرنے دی جا رہی، تو کہیں دباؤ ڈال کر کاغذات واپس لینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں انتخابی عمل کا غیر جانبدار ہونا لازمی ہے، مگر موجودہ حالات میں اس پر عملاً پابندی لگا دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن پارٹیوں کو منظم طریقے سے انتخابی مہم سے روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کہیں ہیلی کاپٹر دستیاب نہیں ہونے دیے جا رہے، تو کہیں انتخابی جلسوں کے لیے میدان پہلے ہی بلاک کر دیے گئے ہیں، تاکہ مخالفین اپنی بات عوام تک نہ پہنچا سکیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ انتخابات یکطرفہ نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ ہر پارٹی کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا برابر حق حاصل ہونا چاہیے۔
ہرش وردھن سپکال نے تشدد میں اضافے پر بھی شدید تشویش ظاہر کی اور کہا کہ امیدواروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے سرِعام بندوقیں اور ہتھیار لے کر گھومنا ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں اکوٹ، سولاپور اور کھوپولی میں مقامی انتخابات کے دوران اب تک تین قتل ہو چکے ہیں، جو جمہوریت کے لیے نہایت خطرناک علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہانگر پالیکا انتخابات دراصل پانی، صفائی، سڑکوں، صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شہری مسائل پر ہونے چاہئیں، مگر بی جے پی اور اس کی مہایوتی ان موضوعات پر بات کرنے کے بجائے لسانی اور فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دے رہی ہے۔ ان کے مطابق کہیں میئر کے لیے مراٹھی یا اردو، تو کہیں خان یا بان کے نام پر بحث چھیڑی جا رہی ہے، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اقتدار میں بیٹھی پارٹی کے پاس عوامی مسائل پر کہنے کو کچھ نہیں۔
ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ اقتدار میں شامل تینوں اتحادی پارٹیاں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہی ہیں، لیکن یہ محض دکھاوے کی لڑائی ہے، جسے انہوں نے ’نوراکشتی‘ قرار دیا۔ انہوں نے بی جے پی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی پارٹی اور اپنے لیڈر کو ’وشوگرو‘ کہنے کا دعویٰ کرنے والی پارٹی اندر سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق بی جے پی کے پاس نہ قابل قیادت ہے، نہ مضبوط تنظیم، نہ ہی اپنے وفادار امیدوار، اسی لیے انہیں مخالف پارٹیوں سے لیڈروں اور کارکنوں کو سام، دام، دنڈ اور بھید کی پالیسی کے تحت توڑ کر لانا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی میں وفادار کارکنوں کا کردار محض جلسوں میں کرسیاں اٹھانے تک محدود کر دیا گیا ہے، جبکہ اقتدار اور ٹکٹ باہر سے آئے لوگوں میں بانٹے جا رہے ہیں۔ ہرش وردھن سپکال نے سخت الفاظ میں کہا کہ بی جے پی ایک ایسی سیاسی طاقت بنتی جا رہی ہے جو مخالف پارٹیوں کے رہنماؤں کو نگلنے والی چڑیل کی طرح کام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اس ماحول میں بھی عوام کے درمیان جا کر جمہوریت، آئین اور شہری حقوق کے تحفظ کی بات کرتی رہے گی، اور ریاست کے عوام اس غنڈہ گردی، دھونس اور دھاندلی کا جواب اپنے ووٹ کے ذریعے ضرور دیں گے۔
MPCC Urdu News 9 January 26.docx