ممبئی میں خطرناک فضائی آلودگی، سانس کی بیماریوں میں اضافہ، فوری اقدامات کا مطالبہ

ممبئی کانگریس کی صدر و رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے لوک سبھا میں ممبئی کی بگڑتی ہوا کے معیار کا مسئلہ اٹھایا

ممبئی: فضائی آلودگی کے شدید بڑھتے ہوئے بحران نے ممبئی جیسے عالمی شہرت یافتہ اور ملک کی اقتصادی راجدھانی شہر کو صحت کے ایک بڑے خطرے میں دھکیل دیا ہے، جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس لگاتار 150 سے 200 کے درمیان رہ کر شہریوں کی سانس کی بیماریوں میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے، جبکہ کچھ علاقوں میں آلودگی کی سطح 300 تک جا پہنچی ہے جو انتہائی مضرِ صحت ہے۔ ممبئی کانگریس کی صدر رکنِ پارلیمنٹ ورشا گائیکواڑ نے اس سنگین صورتحال پر لوک سبھا میں شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کے لوگوں کو صاف اور محفوظ ہوا فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے جس کے لیے تعمیراتی سرگرمیوں پر روک، اینٹی ڈسٹ گن، تعمیراتی مقامات پر وہیل واش سسٹم اور دیگر فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

ورشا گائیکواڑ نے رول 377 کے تحت معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ممبئی کا اے کیو آئی پورے شہر میں مسلسل خطرناک سطح پر پہنچ چکا ہے اور بے تحاشہ تعمیرات، درختوں کی غیر سائنسی کٹائی اور ماحولیات کو نظرانداز کرنے والی حکومتی پالیسیوں نے ریاست کے ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ ملک میں ہر سال تقریباً 17 لاکھ افراد فضائی آلودگی کے باعث موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں، جبکہ ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ممبئی کے شہریوں کی اوسط عمر 3.7 سال کم ہو چکی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آرے کالونی میں میٹرو کار شیڈ کے لیے دو ہزار درختوں کی کٹائی، دھاراوی ری ڈیولپمنٹ کے دوران بڑے پیمانے پر درختوں کا صفایا اور ناسک میں سادھوگرام کے لیے 1700 درختوں کی مجوزہ کٹائی نے ماحولیات کے توازن کو شدید بگاڑا ہے، جس کے باعث ہوا میں زہریلے ذرات کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

ورشا گائیکواڑ نے متنبہ کیا کہ اگر حکومت نے ان کے ’ممبئی کلین ایئر مینی فیسٹو‘ میں درج تجاویز کے مطابق فوری اور سخت قدم نہ اٹھائے تو ممبئی کی حالت دہلی سے کہیں بدتر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے ماحول دوست ترقیاتی حکمتِ عملی اور درختوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

MRCC Urdu News 9 Dec. 25.docx

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading