MPCC Urdu News 9 May 24

ریاست کا 75 فیصد حصہ خشک سالی کی چپیٹ میں، کانگریس کے لیڈران کا 31 مئی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ: نانا پٹولے

ریاست کے عوام خشک سالی سے جوجھ رہے ہیں مگر ریاست کے وزیر اعلیٰ چھٹی پر ہیں

پونے حادثہ کی ایس آئی ٹی تحقیقات گمراہ کن، حکومت کی ملزمین کو بچانے کی کوشش!

کانگریس قانون ساز کونسل کی دو سیٹوں پر الیکشن لڑے گی!

ممبئی: ریاست میں خشک سالی کی وجہ سے عام لوگوں کی حالت بہت خراب ہے۔ کئی علاقوں میں لوگوں کو 15 سے 20 دن سے پینے کا پانی نہیں مل رہا ہے۔ ریاست کا 75 فیصد حصہ شدید خشک سالی کی چپیٹ میں ہے۔ جہاں ریاست کے لوگ خشک سالی سے نبرد آزما ہیں، وہیں وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے چھٹی پر چلے گئے ہیں۔ لیکن کانگریس پارٹی عوام کو انصاف فراہم کرنے کے لیے 31 مئی سے خشک سالی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ شروع کرنے جا رہی ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

بدھ کو تلک بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے مخلوط حکومت پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے کئی حصوں میں لوگوں کو پینے کے پانی کے ساتھ ساتھ جانوروں کے چارے کی بھی شدید پریشانی کا سامنا ہے۔ حکومتی بے حسی کے باعث ٹینکر مافیا مسلسل سرگرم ہے۔ حکومت کہہ رہی ہے کہ واٹر ٹینکرز میں جی پی ایس لگے ہیں لیکن اسے ہٹا کر موٹر سائیکلوں پر لگایا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت واٹر ٹینکر مافیا سے پیسے وصول کرتی ہے؟ حکومت قحط زدگان کی مدد کے لیے ضابطہ اخلاق کا بہانہ بنا رہی ہے لیکن کیا ٹینڈر جاری کرنے کے لیے ضابطہ اخلاق کا اطلاق نہیں ہوتا؟ الیکشن کمیشن کی اجازت سے آفات میں مدد فراہم کی جا سکتی ہے۔

پٹولے نے کہا کہ ہمارے لیڈر 31 مئی سے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں گے اور کمشنروں سے ملاقات کریں گے اور انہیں میمورنڈم سونپیں گے۔ اس کے تحت مراٹھواڑہ میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، شمالی مہاراشٹر میں کانگریس لیجسلیچر پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھوراٹ، مغربی مہاراشٹر میں سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، ودربھ میں اپوزیشن لیڈر وجے وڈیٹی وار، امراؤتی میں سابق وزیر یشومتی ٹھاکر اور کوکن ڈویژن میں ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان اس دورے کی قیادت کریں گے۔

پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت پونے پورش کار حادثہ کے ملزمین کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ معاملے کی جانچ کے لیے بنائی گئی ایس آئی ٹی کمیٹی کی جانچ ڈاکٹر پلوی ساپلے کو دی گئی ہے، لیکن یہ وہی افسر ہیں جن پر بدعنوانی کے کئی الزامات لگے ہیں۔ میراج ہسپتال میں رہ کر ڈاکٹر ساپلے نے کیا کیا کارنامے سرانجام دیے سب جانتے ہیں۔ ایسا کرپٹ افسر شفاف تحقیقات کیسے کر سکتا ہے؟ کانگریس اس معاملے کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کر رہی ہے کیونکہ اس معاملے میں ڈاکٹروں، پولس اور سیاسی لیڈروں کی ملی بھگت ہے۔

کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ پونے حادثہ کیس میں کس وزیر نے پولیس کو بلایا؟ گاڑی میں کون تھا؟ ان کے نام سامنے کیوں نہیں آرہے؟ حکومت کیوں چھپا رہی ہے؟ جب لڑکے پب سے نکلے تو وہاں سے دو گاڑیاں گزر چکی تھیں۔ ان دونوں کے درمیان ریس لگ گئی اور یہی حادثہ کی وجہ بنا۔ ریاستی حکومت کو واضح کرنا چاہئے کہ ایک ایم ایل اے کا بیٹا بھی اس پب میں موجود تھا۔ حکومت ڈاکٹر ٹاورے کو سیکورٹی فراہم کرے کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ٹاورے نے کہا ہے کہ وہ سب کے نام ظاہر کریں گے۔ پٹولے نے کہا کہ ٹاورے اس پورے معاملے میں ایک اہم ذریعہ اور ثبوت ہیں۔ ایسے میں ان کی حفاظت بہت ضروری ہے۔

پٹولے نے بتایا کہ کانگریس پارٹی قانون ساز کونسل کی دو سیٹوں پر الیکشن لڑ رہی ہے۔ یہ فیصلہ سینئر لیڈروں کے ساتھ بات چیت کے بعد کیا گیا۔ پٹولے نے کہا کہ امیدواروں کے ناموں کا اعلان 2 جون کو کیا جائے گا۔ اس پریس کانفرنس میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، سابق مرکزی وزیر سشیل کمار شندے، ریاستی ورکنگ صدر نسیم خان اور چیف ترجمان اتل لونڈھے موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading