اودئے پور وامراؤتی قتل کے ملزمین کا تعلق بی جے پی سے ہے:کانگریس

ممبئی:بی جے پی اپنی منافقانہ قوم پرستی کی آڑ میں ملک کے ماحول کو خون آلود کر رہی ہے۔کئی ملک مخالف ودہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث دہشت گرد وں کے بی جے پی سے گہرے روابط بے نقاب ہوئے ہیں۔ پلوامہ واقعہ کے اہم ملزمین، ادے پور میں کنہیالا ل کا قتل کرنے والے اور آسام میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے نرنجن ہوجائی ان سب کا تعلق بی جے پی سے ہے۔ان سب واقعات سے بی جے پی کی منافقانہ قوم پرستی کانقاب اترچکا ہے۔یہ سخت تنقید آج یہاں آل انڈیا کانگریس کے قومی ترجمان ڈاکٹر اجئے کمار نے کیا ہے۔

گاندھی بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ترجمان اور سکم، تریپورہ اور ناگالینڈ کے انچارج ڈاکٹر اجے کمار نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی منافقانہ قوم پرستی کو بے نقاب کیا۔ انہوں نے بتایا کہ کس طرح بی جے پی ملک میں قتل اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔انہوں نے کہا کہ کنہیا لال قتل کا ملزم محمد عطاری بی جے پی کارکن نکلا۔ وہ بی جے پی لیڈر گلاب چند کٹاریا کے داماد کی کمپنی میں کام کرتا تھا۔ اس کابی جے پی کے کئی سینئر لیڈروں سے قریبی تعلقات اجاگر ہوئے ہیں۔اس کے علاوہ جموں و کشمیر میں پکڑے گئے لشکر طیبہ کے دو عسکریت پسندوں میں سے ایک طالب حسین شاہ بی جے پی کا عہدیدار ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ اس کی تصاویر بھی منظر عام پر آئی ہیں۔

جموں کشمیر میں ہی 2020میں دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کرنے کے الزام میں بی جے پی لیڈر وسرپنچ طارق احمد میر کوگرفتار کیا گیا تھا۔اس کے علاوہ مدھیہ پردیش میں بجرنگ دل کے کارکن بلرام سنگھ کو 2019 میں ٹیٹر فنڈنگ کے معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا، جب کہ 2017 میں غیرقانونی ٹیلی فون ایکسچنج معاملے میں بی جے پی کے آئی ٹی سیل کے دھرو سکسینہ کو گرفتار کیا گیا تھا جس کا پاکستان کی آئی ایس آئی سے تعلقات بے نقاب ہوا تھا۔دہشت گرد مسعود اظہر کے حمایتی محمد فاروق خان کو بی جے پی نے شری نگر میں بلدیاتی انتخاب میں امیدوار بنایا تھا۔ جموں و کشمیر کے ڈی وائی ایس پی دیویندر سنگھ کو جموں و کشمیر سے دو عسکریت پسندوں کو دہلی لے جاتے وقت گرفتار کیا گیا۔ اس وقت کے ڈپٹی گورنر نے ایک خط لکھا تھا کہ اس معاملے کی تحقیقات نہ کی جائے کیونکہ یہ قومی سلامتی کے مفاد میں نہیں ہے۔ یہ دیویندر سنگھ اب کہاں ہیں؟یہی دیوندرسنگھ پلوامہ واقعے کے وقت اس علاقے میں موجود تھا۔جبکہ یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ پلوامہ واقعہ میں استعمال ہونے والا 200 کلوگرام آر ڈی ایکس کہاں سے آیا تھا۔پارلیمنٹ پر حملہ، پلوامہ حملہ اور 2008 کے ممبئی حملوں جیسے بڑے حملوں کے ماسٹر مائنڈ مسعود اظہر کو اٹل بہاری واجپائی حکومت نے ہی قندھار تک لے جاکر چھوڑا تھا۔ آسام بی جے پی کے لیڈر نیرنج ہوجائی کو دہشت گردوں کی مالی مددمعاونت کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی ہے۔وہ ایک ہزار کروڑ روپے کے گھوٹالہ اور ٹیرر فنڈنگ?معاملے میں مجرم پایا گیا ہے۔

ڈاکٹر اجئے کمار نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی دراصل بھارتیہ جھوٹی پارٹی اور بھارت جلاؤ پارٹی ہے۔اس کے لیے دہشت گردوں سے تعلقات قومی سلامتی سے سمجھوتہ والے ہیں جو کسی طور قومی مفاد میں نہیں ہے۔ کانگریس پارٹی کبھی بھی ایسا سمجھوتہ نہیں کرتی ہے۔ملک کے لیے کانگریس کے دو وزرائے اعظم شہید ہوئے لیکن کانگریس نے کبھی قومی سلامتی سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔

اس موقع پر ریاستی کانگریس کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہا کہ امراؤتی میں تاجر امیش کولہے کے قتل کے الزام میں گرفتار عرفان خان نے ممبرپارلیمنٹ نونیت رانا وایم ایل اے روی رانا کے انتخابی مہم میں حصہ لیا تھا۔ رانا جوڑے اور بی جے پی کے درمیان تعلقات کوئی ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ امراوتی کا واقعہ 21 جون کو ہوا تھا جبکہ اودے پور کا واقعہ 28 جون کو۔لیکن ایم پی نونیت رانا نے 27 جون کو ہی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو ایک خط بھیج کران دونوں واقعات کی این آئی اے سے تحقیقات کرانے کے لیے کہا تھا۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نونیت رانا کو ان واقعات کے رونما ہونے سے قبل ہی اس کے بارے میں کیسے معلوم ہوا۔ کیا یہ سب پہلے سے منصوبہ بند تھا؟ کولہے کا قتل ہوئے سوا مہینہ بھی نہیں گزرا ہے لیکن یہ نونیت رانا کولہے کے گھر جا کر اس کے گھروالوں کو تسلی دینے کے بجائے پوجا پاتھ کررہی ہیں جوان کی گھٹیا سیاست کی غماز ہے۔ لونڈھے نے کہا کہ بی جے پی نے ملک کو طالبانی ملک میں تبدیل کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading