MPCC Urdu news 9 Dec 22

کیا بی جے پی کے چندرکانت پاٹل کو ’بھیک‘ اور’چندہ‘ میں فرق سمجھتے ہیں؟: ناناپٹولے

بی جے پی کے لیڈروں کو چاہئے کہ وہ عظیم شخصیات کی بدنامی کی گھٹیا حرکتیں بند کردیں

بہوجنوں کے بچے تعلیم حاصل نہ کریں، یہی بی جے پی وآرایس ایس کا منصوبہ ہے

ممبئی:بی جے پی کے لیڈرفکری طور پر دیوالیہ ہو چکے ہیں اور انہیں عظیم شخصیات کے بارے میں توہین آمیز بیانات دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی ہے۔چھترپتی شیواجی کے بارے میں بیانات دینے پر بی جے پی کے کسی بھی لیڈر نے آج تک معافی نہیں مانگی اور اب بی جے پی لیڈر اور اعلیٰ اور تکنیکی تعلیم کے وزیر چندرکات پاٹل نے مہاتما جیوتی با پھلے، کرم ویر بھاؤ راؤ پاٹل اور ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے بارے میں توہین آمیز بیانات دے کر اپنی پست ذہنی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کیا چندرکانت پاٹل کو بھیک، عوامی چندہ اور مالی امداد کے فرق کو سمجھتے ہیں؟ یہ سوال آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

چندرکانت پاٹل کے بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ مہاتما جیوتی با پھلے، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، کرم ویر بھاؤ راؤ پاٹل نے بہوجن سماج اور غریبوں کے بچوں کے لیے اسکول کھول کر ان کے لیے تعلیم کے دروازے کھولے۔ ان عظیم لوگوں نے بہوجن سماج کے بچوں کی تعلیم کے لیے اپنا سب کچھ قربان کردیا۔ لوگوں سے چندے اور امداد کی شکل میں پیسے جمع کیے اور اسکول کھولے۔ عوامی شراکت کے ذریعے تعلیمی اداروں کو دیہاتوں تک پھیلایا۔ چندرکات پاٹل نے نہ صرف ان عظیم شخصیات اور ان کے ذریعہ کئے گئے عظیم کام کی توہین کی ہے بلکہ ان کے عظیم کام کی بھیک مانگنا قرار دیتے ہیں۔ یہ صریح طور پر بہوجن سماج کی بھی توہین کی ہے۔

پٹولے نے کہا کہ سماج کی ترقی کے لیے فنڈدینا حکومتوں کی ذمہ دار ی ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر حکومت کو تعلیم پر خرچ نہیں کرنا ہے تو کیا حکومتی اشتہارات پر کروڑوں روپے ضائع کرنے ہیں؟اگر حکومت عوام کی صحت، تعلیم اور فلاح و بہبود پر پیسے خرچ نہیں کرے گی تو آخر کس پر خرچ کرے گی؟اگر حکومت عوام کے لیے پیسے خرچ کرتی ہے تو کوئی احسان نہیں کرتی ہے۔ چندرکانت پاٹل جیسے لوگوں کو یہ معلوم شاید نہیں معلوم ہوگی کہ عوام کا پیسہ صرف عوام کے لیے ہی استعمال ہوتا ہے،کیونکہ ان کی پارٹی صرف دو چار صنعت کاروں کے کھونٹوں سے بندھی ہوئی ہے اورچندرکانت پاٹل اور ان کی پارٹی کی حکومت ان صنعتکاروں کے گھروں میں پانی بھرتی ہے اورعوام کے مسائل پر خود الٹا سوال کرتی ہے۔

ناناپٹولے نے کہا کہ گورنر بھگت سنگھ کوشیاری نے بھی مہاتما پھلے، ساوتری بائی پھلے، چھترپتی شیواجی کے بارے میں ایسے ہی توہین آمیز بیانات دیئے، بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے بھی چھترپتی کی توہین کرنے والا بیان دیا۔ ان کا یہ بیان عوام کے غم و غصے کا باعث بن رہا ہے لیکن بی جے پی لیڈر اس قدر پر ڈھیٹ ہیں کہ اپنے بیانات پر وہ معافی تک نہیں مانگ رہے ہیں۔ یہ دراصل اقتدار کا نشہ ہے جو زیادہ دیر برقرار نہیں رہے گا۔ چندرکانت پاٹل اور ان کی پارٹی کو یاد رکھنا چاہیے کہ جن لوگوں نے آپ کو اقتدار دیا ہے وہی آپ کو اس سے بے دخل بھی کریں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading