ممبئی:کوئلے کی قلت کے سبب ریاست میں بجلی کا بحران پیدا ہوگیا ہے لیکن مرکزی حکومت جان بوجھ کر ضرورت کے مطابق کوئلہ فراہم نہیں کررہی ہے۔وہیں مرکزی جانچ ایجنسیوں کے ذریعہ مہا وکاس اگھاڑی حکومت کے لیڈروں کے خلاف مسلسل کارروائی کی جارہی ہے۔ان مسائل پر مہاراشٹر کے صدر پردیش کانگریس کمیٹی نانا پٹولے نے جمعہ کو این سی پی صدر شرد پوار سے ملاقات کرکے تبادلہ خیال کیا۔

شرد پوار سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ جہاں ریاست میں گرمی کی وجہ سے بجلی کی مانگ بڑھ گئی ہے، وہیں مرکزی حکومت ریاست کو ضرورت کے مطابق کوئلہ فراہم نہیں کر رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں مہاراشٹر میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ پیدا ہوگیا ہے۔ان مسائل پر تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔پٹولے نے کہا کہ مرکزی حکومت کی طرف سے رکاوٹوں کی وجہ سے ریاست میں اندھیرا چھاجانے کا خطرہ منڈرا رہاہے۔پٹولے نے کہا کہ مرکزی جانچ ایجنسیاں مسلسل سیاسی انتقام کے تحت مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران کونشانہ بنارہی ہیں۔مرکزی حکومت اس طرح سے دباؤ بنا کر مہاوکاس اگھاڑی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن مرکزی حکومت کی یہ من مانی زیادہ دنوں تک نہیں چلے گی۔انہوں نے کہا کہ جب مرکزی ایجنسیاں مہاوکاس اگھاڑی کے لیڈران کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو بی جے پی کے لوگ کہتے ہیں کہ کچھ غلط نہیں کیا تو پھر ڈر کس بات کا۔ اگر ایسی بات ہے تو پھر بی جے پی لیڈر پروین دریکر اور دیگر لوگوں نے جب کوئی گھوٹالہ نہیں کیا ہے تو پھر انہیں ممبئی پولیس کی کارروائی پر سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔

پٹولے نے کہا کہ این سی پی کے صدر شرد پوار کے ساتھ ان کی بات چیت بہت مثبت رہی۔جلد ہی مہاوکاس اگھاڑی کے تمام اہم لیڈران ریاست کے اہم مسائل پر میٹنگ کریں گے۔

آئی این ایس وکرانت کے بارے میں صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کے ذریعہ”وکرانت بچاؤ“ مہم کے تحت جو رقم جمع کی گئی تھی وہ آخر کہاں گئی؟ بی جے پی لیڈروں کو اس کا جواب دینا چاہیے۔یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ رقم راج بھون کو بھیجی گئی تھی لیکن راج بھون نے خود وضاحت کی ہے کہ انہیں ایسا کوئی فنڈ نہیں ملا ہے۔شیو سینا کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے یہ معاملہ اٹھایا ہے لیکن بی جے پی لیڈراس کا جواب دینے سے کترارہے ہیں۔ اس سے سمجھا جا سکتا ہے کہ پس پردہ حقیقت کچھ اور ہے۔

شرد پوار کے گھر پر حملہ قابل مذمت،یہ مہاراشٹر کی روایت نہیں ہے: نانا پٹولے

ایس ٹی کارکنوں کو مشتعل کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے

ممبئی:این سی پی کے قومی سربراہ شردپوار کی رہائش گاہ سلور اوک کچھ لوگوں نے حملہ کیا،چپل پھینکے اورشردپورا کانام لے کر قابلِ اعتراض ونازیبا نعرے لگائے۔ یہ معاملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ اس حملے کی ہم شدید مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ حملہ آوروں کوللکارنے والوں کو تلاش کیا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔

نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی کا یہ واضح موقف ہے کہ ایس ٹی کارکنوں کو انصاف ملنا چاہیے۔ حکومت بھی ان کے مطالبات کو تسلیم کرلیا ہے۔ عدالت نے کل ان کے احتجاج پر فیصلہ دیا ہے، وہ فیصلہ بھی سبھی کو منظور ہے لیکن آج اچانک ایک ہجوم شردپوار کے گھرپپردھاوا بولتا ہے اور منصوبہ بند طریقے سے حملہ کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ان مظاہرین کو کوئی مشتعل کرکے وہاں بھیجاتھا۔ یہ مشتعل کرنے والے کون ہیں؟ اس معاملے میں جو بھی ہوں ان کو تلاش کیا جانا چاہئے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہئے۔پٹولے نے کہا کہ آج ہم تمام لوگ ایس ٹی کارکنوں کے ساتھ ہیں، انہیں انصاف ملنا ہی چاہئے لیکن اس طرح ایک سینئر لیڈر کے گھر پر حملہ کرنا مہاراشٹر کی روایت نہیں ہے۔ اگر کوئی نااتفاقی ہے یا کچھ مطالبات ہیں تو وہ بات چیت کے ذریعے حل کئے جاسکتے ہیں۔ لیکن اس طرح مہاراشٹر میں امن وامان خراب کرنے کی جوکوشش کررہے ہیں انہیں قانون کے مطابق سزاملنی چاہئے۔