MPCC Urdu News 7 Sep 23

بھارت جوڑویاترا کے ذریعے راہل گاندھی نے نفرت وڈر کے خلاف لوگوں کو متحد کیا: نسیم خان

مودی حکومت نے گزشتہ ۹سالوں میں عوام کو لوٹا اور مٹھی بھرلوگوں کو فائدہ پہنچایا

ہندوؤں کی اکثریت مودی وبی جے پی کے خلاف ہے، بی جے پی صرف گجرات واترپردیش میں بچی ہے: کمار کیتکر

ممبئی:کانگریس کے سابق صدر اور رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے 7 ستمبر 2022 کو ہندوستان کوجوڑنے کے لیے کنیا کماری سے کشمیر تک 4 ہزار کلومیٹر پیدل سفر شروع کیا تھا۔ مرکزکی مودی حکومت کے ذریعے ملک میں پھیلائے جارہے نفرت اور سماجی تفریق میں راہل گاندھی نے ملک کو جوڑکر ایک تاریخی کارنامہ انجام دیا۔ اس تاریخی بھارت جوڑویاترا کے ایک سال مکمل ہونے پر کانگریس پارٹی کے لیڈران پوری ریاست میں نفرت چھوڑو بھارت جوڑو کے پیغام کو عام کرنے کے لیے پدیاترا کرہے ہیں جس کی عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی ہورہی ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے کارگزار صدر وسابق وزیرنسیم خان نے کہی ہیں۔ بھارت جوڑو یاترا کے ایک سال مکمل ہونے پر وہ یہاں پارٹی دفتر تلک بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ا ن کے ساتھ راجیہ سبھا ممبر کمارکیتکربھی موجود تھے۔

اس موقع پر نسیم خان نے مزید کہا کہ مرکز کی مودی حکومت نے ملک کی عوام کوصرف لوٹا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ کے ذریعے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالاہے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی یو پی اے حکومت کے دوران گھریلو گیس سلنڈر جو 350 روپے تھا اس کی قیمت بڑھا کر 1100 روپے کر دی گئی تھی اور اب بی جے پی حکومت کہتی ہے کہ ہم نے سیلنڈر کی قیمتوں میں 200روپئے کم کرکے ماؤں بہنوں کوراحت دی ہے۔ مودی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے بہت زیادہ منافع کمایا ہے۔2014 میں مودی کے اقتدار میں آنے سے پہلے پیٹرول پر ایکسائز ڈیوٹی 9.48 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 3.56 روپے فی لیٹر تھی۔ مودی حکومت کے دوران یہ ٹیکس پٹرول پر32.98 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 31.83 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے۔ پیٹرول، ڈیزل، خوردنی تیل اور دالوں کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافے سے عوام کا جینا محال ہوگیا ہے۔ بی جے پی کسانوں، بے روزگاری، مہنگائی، امن و امان کی بات نہیں کرتی ہے۔ وہ ذات پات کے نام پر سماج میں دراڑ پیدا کرنے کی سیاست کرتی ہے۔ اسی خراب ماحول میں راہل گاندھی نے’محبت کی دُکان‘ شروع کی ہے۔ کانگریس، انڈیا الائنس اور راہل گاندھی ملک کے آئین اور جمہوریت کو بچانے کی جدوجہد کررہے ہیں۔

مسلم ومراٹھا ریزرویشن پر مہاراشٹرحکومت کے معاندانہ رویے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے نسیم خان نے کہا کہ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی سماج کے کسی بھی طبقے کو ریزرویشن دینا ہی نہیں چاہتی ہے۔ 2014 میں مراٹھا وپسماندگی کی بنیاد پر مسلم طبقے کوریزرویشن دیا گیا جو عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مہاراشٹر حکومت عدالت میں مضبوطی کے ساتھ ریزرویشن کے موقف کوپیش کرتی لیکن اس حکومت نے قصداً عدالت سے ریزرویشن پر روک لگانے میں اہم کردار اداکیا۔ مراٹھا ریزرویشن پر تو خیر عدالت نے روک لگادی لیکن مسلمانوں کو تعلیم میں ریزرویشن کو بحال رکھا لیکن اس حکومت نے عدالت کے ذریعے اس منظور شدہ ریزرویشن بھی نہیں دیا۔ایک سوال کے جواب میں نسیم خان نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کے ریزرویشن کی مخالفت کرتی ہے جبکہ سچائی یہ ہے کہ مسلمانو ں کو پسماندگی کی بنیاد پر ریزرویشن دیا گیا تھا اورکئی کمیشنوں کی سفارش کی بنیاد پر دیا گیا تھا۔ اس میں کوئی آئینی دشواری نہیں تھی اس کے باوجود لوگوں میں جھوٹ پھیلایاگیا کہ مسلمانوں کو مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن دیا گیا تھا۔نسیم خان نے کہا کہ اس حکومت کا شیوہ ہی یہی ہے کہ جھوٹ بولو اور تیز آواز میں مسلسل بولو، لیکن بی جے پی کوسمجھنا چاہئے کہ اب ملک کی عوام اس کے جھوٹ مزید برداشت نہیں کرے گی۔

نسیم خان نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کی سالگرہ کے موقع پر جمعرات کو مہاراشٹر کے تمام اضلاع میں بھارت جوڑو یاترا نکالی گئی۔ ناگپور میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، ناندیڑ میں سابق وزیر اعلی اشوک چوہان، احمد نگر میں قانون ساز پارٹی کے لیڈر بالاصاحب تھورات، اکولہ میں اپوزیشن لیڈر وجے ودیٹی وار، پونے ضلع میں سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، ناسک میں سی ڈبلیو سی ممبر اور ریاستی ورکنگ صدر چندرکانت ہنڈورے، کولہاپورمیں ودھان پریشد کے گروپ لیڈر اور سابق وزیر ستیج عرف بنٹی پاٹل، اورنگ آباد میں ریاستی ورکنگ صدر بسوراج پاٹل، شولاپور میں ریاستی کارگزارصدر محترمہ پرینتی شندے اور جلگاؤں میں ریاستی کارگزارصدر کنال پاٹل کی کی قیادت میں بھارت جوڑوپدیاترا نکالی گئی۔ نسیم خان نے اس موقع پر اس یقین کا اظہار کیا کہ آئین وجمہوریت کو بچانے کی اس جدوجہد میں شامل تمام لوگوں کی جیت ہوگی۔

اس موقع پر رکن پارلیمنٹ کمار کیتکر نے کہا کہ نریندر مودی کے تمام فیصلے غلط ثابت ہوئے ہیں۔ نوٹ بندی کا فیصلہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ نوٹ بندی نے ملک کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے تاجروں کوناقابل تلافی نقصان پہنچایا، ا س فیصلے سے وہ مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ مودی حکومت بیرون ملک سے کالا دھن لانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔ نکسل ازم اور دہشت گردی ختم نہیں ہوئی تو مودی نے پلوامہ اور بالاکوٹ پر سرجیکل اسٹرائیک کے نام پر ووٹ مانگے۔ سال 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کو 31 فیصد ووٹ ملے تھے اور 2019 میں اسے 37 فیصد ووٹ ملے تھے، یعنی زیادہ تر ہندو برادری بی جے پی اور مودی کے خلاف ہے۔ بی جے پی جنوبی ہندوستان میں کہیں نہیں ہے۔ مغربی بنگال، بہار میں بی جے پی کی حکومت نہیں ہے۔کمار کیتکر نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی صرف گجرات اور اتر پردیش تک محدود رہ گئی ہے۔اس پریس کانفرنس میں ریاستی کانگریس کے ترجمان بھرت سنگھ بھی موجود تھے۔

تاریخی بھارت جوڑویاترا نئی نسل کو تحریک دے گی: ناناپٹولے

بھارت جوڑویاترا کے دوران کنیا کماری سے کشمیر تک لوگوں نے راہل گاندھی کا شاندار استقبال کیا

مرکز اور ریاست میں بی جے پی حکومت کے خلاف لوگوں میں شدید ناراضگی ہے

ممبئی:راہل گاندھی نے کنیا کماری سے کشمیر تک پیدل چل کر تاریخ رقم کردی۔ اس پیدل چلنے کی وجہ سے ملک کا ماحول تبدیل ہوگیا۔ عوام کے دکھ، مسائل اور ان کے احساسات کو سننے وسمجھنے والا ملک میں واحد شخص راہل گاندھی کی شکل میں لوگوں کو ملا جس کا عوام نے کھلے دلوں سے استقبال کیا۔ دہشت کے سائے میں رہنے والے جموں وکشمیر میں بھی لوگوں کے ذریعے راہل گاندھی کے والہانہ اور زبردست استقبال کو دنیا نے دیکھا۔بھارت جوڑویاترا کی سالگرہ کا جشن ملک بھر میں نہایت جوش وخروش سے منایاجارہا ہے۔ کانگریس کے کارکنان نیز نئی نسل کے لیے بھارت جوڑو یاترا تحریک دینے والاہے۔ یہ باتیں مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔

جوڑو یاترا کی سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں پدا یاترا، پریس کانفرنس اور جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔ ناگپور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ بھارت جوڑو یاترا کو شروع میں اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا لیکن عوام نے اس کا خیر مقدم کیا۔ یہ احساس کہ راہل گاندھی ہمارے علاقے میں پیدل چل رہے ہیں اور ہم سے بات چیت کر رہے ہیں، اس نے عام لوگوں کو خوشی دیا۔ لوگوں میں اس احساس کا پیدا ہونا بہت اہم ہے کہ کوئی ان کی باتیں سن رہا ہے۔ راہل گاندھی نے سماج کے تمام طبقوں کے دکھ، تکالیف اور مسائل کو سمجھا۔ بھارت جوڑو یاترا کوعوام کے ذریعے زبردست رسپانس ملا۔ اس یاترا کی سالگرہ ملک بھر میں مختلف پروگراموں کے ساتھ منائی جارہی ہے۔

مہاراشٹر میں 3 ستمبر سے جن سنواد پد یاتراشروع ہے۔ شہرٹ تعلقہ اور گاؤں کی سطح پر جاری یہ پدیاترا12/ستمبرتک چلے گی۔ اس پدیاترا کے ذریعے عوام کے مسائل سے واقفیت حاصل کی جارہی ہے۔ ملک اور ریاست میں جابر وظالم حکومت کے خلاف عوام میں شدید ناراضگی پائی جاتی ہے۔ مہنگائی عروج پر پہنچ گئی، حکومت نوکریوں کے نام پر نوجوانوں کو لوٹ رہی ہے، کسان سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کی وجہ سے کسانوں، نوجوانوں اور خواتین میں خودکشی کی شرح بڑھ رہی ہے اور یہ تشویشناک بات ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو عوام کے مسائل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، وہ صرف اقتدارمیں برقرار رہنا چاہتی ہے۔

اس پریس کانفرنس میں سابق مرکزی وزیر ولاس متیموار، سابق وزیر ستیش چترویدی، ناگپور سٹی کانگریس کے صدر ایم ایل اے وکاس ٹھاکرے، سابق وزیر اور ناگپور ضلع کانگریس کے صدر راجندر ملک، ایم ایل اے ابھیجیت ونجاری اور چیف ترجمان اتل لونڈھے وغیرہ موجود تھے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading