نئی حکومت کسانوں کے قرض معافی، سویابین کے لیے 6 ہزار روپے اور لاڈلی بہنوں کو فوری طور پر 2100 روپئے ادا کرے

گجرات کی نئی بی جے پی حکومت کو مہاراشٹر کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچائے: نانا پٹولے

کانگریس کی اسمبلی میں نشستیں کم ہو گئی ہیں، لیکن ہمت اور طاقت برقرار ہے، عوام کے مفاد کے لیے حکومت سے سوال پوچھتے رہیں گے

ممبئی: الیکشن کمیشن کی مدد سے ریاست میں ایک ایسی حکومت قائم کی گئی ہے جو ووٹوں کی گنتی میں بدعنوانی کے ذریعے اقتدار میں آئی ہے۔ چوری شدہ اکثریت کے باوجود نئی حکومت تنازعات کے ساتھ بنی ہے اور تینوں پارٹیوں کے اندرونی جھگڑوں کی وجہ سے ملک میں مہاراشٹر کی شبیہ داغدار ہوئی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ بھلے ہی مہاراشٹر کے سر پر دوبارہ گجرات نواز حکومت بٹھا دی گئی ہے، لیکن چھترپتی شیواجی، شاہو مہاراج، پھلے اور امبیڈکر کے مہاراشٹر کے وقار کو ٹھیس نہ پہنچائی جائے۔

نئی حکومت کی تشکیل کے بارے میں بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ مہایوتی کے پاس اکثریت ہونے کے باوجود حکومت بنانے کے لیے کافی جد جہد کرنی پڑی۔ مجھے نہیں لگتا کہ اس حکومت میں ایکناتھ شندے اور اجیت پوار کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔ ان دونوں کے لیے دہلی کے گرد چکر لگانے اور وزارتی عہدوں کی بھیک مانگنے کا وقت آگیا۔ شندے و اجیت پوار مودی و شاہ کی مہربانی سے حکومت میں ہوں گے۔ بی جے پی کو اب ایکناتھ شندے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے بی جے پی اور مودی شاہ نے اکثریت حاصل کرنے کے بعد سے شندے اور اجیت پوار کو ان کی حیثیت بتا دی ہے۔ بی جے پی نے ایک بار پھر دو علاقائی پارٹیوں کو ختم کر دیا ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کی حکومت بن چکی ہے اور انہیں اپنے انتخابی وعدے پورے کرنے ہیں۔ کسانوں کے قرض معافی، زرعی پمپوں کے بجلی کے بلوں کی معافی، لاڈلی بہنوں کو ماہانہ 2100 روپے، 2.5 خالی سرکاری آسامیوں پر فوری طور پر بھرتی عمل میں لائی جائے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ اسمبلی میں کانگریس پارٹی کی تعداد کم ہوئی ہے لیکن ہمت اور طاقت برقرار ہے اور ہم حکومت سے عوام کے سوالات کا جواب طلب کرتے رہیں گے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading