ریاست کی اندھی، بہری اور گونگی شندے وفڈنویس حکومت کو برخاست کیا جائے: ناناپٹولے

14
  • آبی خشک سالی کے اعلان میں ٹال مٹول، پریشان حال کسان امداد سے ہنوز محروم

  • ریاست کی سرمایہ کاری دوسری ریاست میں جانے میں ریاستی ومرکزی حکومت دنوں ذمہ دار

ممبئی:پچھلے تین مہینوں میں ریاست کی شندے فڑنویس حکومت کسانوں، مزدوروں، بے روزگاروں، نوجوانوں، طلباء، خواتین اور عام شہریوں سمیت کسی بھی طبقے کو راحت فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔ اس حکومت کی غلطیوں کی وجہ سے ریاست تنزلی کی طرف چلی گئی ہے اور عوام میں شدید غصہ اور مایوسی ہے۔ ریاست کے لوگوں کو راحت دینے کے لیے اندھی، گونگی اور بہری ای ڈی حکومت کو فوراً برخاست کیا جائے۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کیا ہے۔

ریاستی کانگریس کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے راج بھون میں گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا ہے۔اس وفد میں کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے، قانون ساز کانگریس پارٹی کے لیڈر بالا صاحب تھورات، سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان، ریاستی ورکنگ صدر وسابق وزیر نسیم خان، ایم ایل اے سریش ورپوڈکر، ایم ایل اے سنگرام تھوپٹے، ایم ایل اے سنجے جگتاپ،ایم ایل اے راجیش راٹھوڑ، ریاستی نائب صدرو سابق ایم ایل اے موہن جوشی، ریاستی جنرل سکریٹری دیوانند پوار، پرمود مورے، این ایس یو آئی کے نائب صدر سندیپ پانڈے اور وی جے این ٹی شعبے کے صدر مدن جادھو شامل تھے۔

اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت ریاست کو درپیش بحران اور عوام کو درپیش مسائل سے چشم پوشی کررہی ہے۔ موسم کے اخیر میں ہونے والی شدید بارش سے کسانوں کو کافی نقصان ہوا ہے۔ بیشتر اضلاع میں خریف کی فصل مکمل طور پر ضائع ہو چکی ہے۔ کپاس، سویابین، باجرہ، تور، مکئی، اور اُرد جیسی فصلیں جو کسانوں نے بڑی محنت ومحنت سے اُگائی تھیں وہ سب مکمل طو رپر تباہ ہوچکی ہیں۔اس صورت حال میں ریاست کے کسانوں کو فوری مالی مدد کی ضرورت ہے۔ ریاستی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر آبی خشک سالی کا اعلان کرے اورکسانوں کو مالی مدد فراہم کرے۔لیکن حکومت نے ابھی تک آبی خشک سالی کا اعلان نہیں کیا ہے اور نہ ہی کسانوں کو کسی طرح کی مالی مدد فراہم کی ہے۔پٹولے نے کہا کہ ایک جانب قدرت کی مار اور دوسری جانب حکومت کی بے حسی، ریاست کے کسان ان دومصائب کے شکار ہیں۔ ریاست میں ای ڈی حکومت کسانوں کے لیے کچھ نہیں کر رہی ہے اس لیے کسانوں کا اب حکومت پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی جیسا انتہائی قدم اٹھا رہے ہیں۔ ریاست میں ہر آٹھ گھنٹے بعد ایک کسان خودکشی کرتا ہے۔ دیوالی کے تہوار کے دوران لکشمی پوجا کے دن ریاست میں ایک کسان جوڑے نے خودکشی کر لی جو ریاست کے لیے شرمناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے تین مہینوں میں، تین بڑے پروجیکٹس 1.54لاکھ کروڑ روپئے کا ویدانتا فاکسکان پروجیکٹ، 3ہزار کروڑ روپئے کا بلک ڈرگ پارک اور 22ہزار کروڑ روپئے کا ٹاٹاایئربس جیسے تین بڑے پروجیکٹ ریاست کے باہر چلے گئے۔ اس کی وجہ سے ریاست کو بڑا نقصان ہوا ہے اور ریاست میں لوگوں کے حق کی نوکریاں بھی چھین لی گئی ہیں۔ ہمارے ملک میں بیروزگاری گزشتہ 45 سالوں میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ لاکھوں اسامیاں خالی ہونے کے باوجود حکومت بھرتی نہیں کر رہی۔ ریاست میں آنے والے پروجیکٹ ختم ہورہے ہیں، پرائیویٹ سیکٹر میں بھی نوکریاں دستیاب نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ریاست کے نوجوان شدید مایوسی کے شکار ہیں۔

دیوالی کے پیش نظر ریاستی حکومت نے دیوالی کٹ کی تقسیم کا اعلان کیا تھا۔ اس وقت کانگریس پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ شہریوں کے کھاتوں میں 3000 روپے کی رقم براہ راست ادا کی جائے، کیونکہ اس طرح راشن کی تقسیم میں بہت زیادہ بدعنوانی ہو سکتی ہے۔ لیکن حکومت نے راشن تقسیم کرنے کا فیصلہ کیا۔ دیوالی ختم ہونے کے باوجود لوگوں کو ابھی تک یہ دیوالی کٹ نہیں مل سکا ہے۔ کچھ لوگوں کو راشن ملا لیکن اس میں چینی، تیل اور سوجی نہیں تھی۔اس کے علاوہ جو کچھ دیا گیا ہے وہ انتہائی ناقص معیار کا ہے۔ اس راشن کی تقسیم میں بہت زیادہ بدعنوانی ہوئی ہے اور ریاستی حکومت نے دیوالی کو لوگوں کے لیے تلخ بنادیا ہے۔