قدیم زمانے سے منووادیوں کی سوچ پسماندہ طبقات، دلتوں، محروموں و مظلوموں حقوق کو پامال کرنے کی رہی ہے
راہل گاندھی نے سماجی انصاف کا بگل بجا دیا ہے، بی جے پی چاہے کتنی ہی مخالفت کرے، ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے گی
بی جے پی کی منووادی رویہ کے خلاف کانگریس کا ریاست گیر احتجاج کا اعلان
ممبئی: تمام سماجی طبقات کو ان کی آبادی کے مطابق انصاف اور حقوق کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے۔ کانگریس پارٹی اور انڈیا الائنس میں اس کی اتحادی پارٹیاں ذات پر مبنی مردم شماری کرانے کے لیے پرعزم ہیں، مگر بی جے پی اس کی سخت مخالفت کر رہی ہے۔ جب اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے لوک سبھا میں ذات پر مبنی مردم شماری کا مسئلہ اٹھایا تو بی جے پی کے انوراگ ٹھاکرنے راہل گاندھی کی ذات کے حوالے سے تبصرہ کرکے اس ملک کے بہوجنوں اور پسماندہ طبقات کی توہین کی۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے سماجی انصاف کی لڑائی کا بگل بجا دیا ہے اور اب چاہے بی جے پی کتنی ہی مخالفت کرے، یہ مہم رکنے والی نہیں ہے۔ ملک میں ہر قیمت پر ذات پر مبنی مردم شماری ضرور کرائی جائے گی۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہیں۔ وہ کانگریس کے دفتر تلک بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کر رہے تھے۔
بی جے پی لیڈر انوراگ ٹھاکر کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے کہا کہ بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ انوراگ ٹھاکر نے ذات کی بنیاد پر بات کرکے اپنی اور اپنی پارٹی کے منووادی سوچ کا ایک بار پھر مظاہرہ کیا ہے۔ انوراگ ٹھاکر کے اس بیان سے ملک کی 80 فیصد سے زیادہ بہوجن برادری کی توہین ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا ایجنڈا ذات اور مذہب کی بنیاد پر سیاست کرنا ہے۔ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر کی ذات پوچھنے والے اسی ذہنیت کے لوگ ہیں جنہوں نے چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاجپوشی سے انکار کیا تھا۔ منوادی سوچ کے انہیں لوگوں میں سنت تکارام، سماجی مصلح گوپال گنیش اگرکر، مہاتما جیوتی با پھلے، ساوتری بائی پھلے، راجرشی شاہو مہاراج، وٹھل رام جی شندے، بابا صاحب امبیڈکر، پیریار، پربودھنکر ٹھاکرے جیسے عظیم لوگوں کو ہراساں کیا۔ ان سماجی مصلحین اور عظیم انسانوں نے معاشرے کے پسماندہ، دبے ہوئے اور کمزوروں کی آواز بلند کی لیکن ان سب کو منووادیوں کے ذریعے توہین، ایذا رسانی اور بے جا تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ بی جے پی ایم پی انوراگ ٹھاکر نے دکھا دیا ہے کہ ان کا منوادی رویہ 21ویں صدی میں بھی جاری ہے۔
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی لوک سبھا تقریر میں ’چتوورن‘ نظام اور منواد کا مظاہرہ کرنے والے انوراگ ٹھاکر کی حمایت میں ’ایکس‘ پوسٹ کرکے منواد کی حمایت کی ہے۔ وزیر اعظم کا یہ عمل انوراگ ٹھاکر کے بیان سے زیادہ سنگین ہے۔ آئین کا حلف لینے کے بعد ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر بیٹھا شخص منوود اور چتوورن نظام کی حمایت کیسے کرسکتا ہے؟ یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین آئینی عہدے پر فائز شخص ذات پات اور مذہب کے نام پر تفرقہ انگیز بیانات کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر دکھا دیا ہے کہ آئین کے سامنے سر جھکانے والے ملک کے وزیراعظم جھوٹے ہیں۔
نانا پٹولے نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے ملک میں سماجی انصاف کا بگل بجا دیا ہے۔ راہل گاندھی نے واضح کر دیا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کتنی ہی مخالفت، گالی گلوچ اور رکاوٹیں کھڑی کرے، ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے گی اور جس کی جتنی تعداد ہوگی، اسے اتنا حصہ ملے گا۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ہم بی جے پی کے اس گھناؤنی حرکت کے خلاف احتجاج کرنے جا رہے ہیں۔