MPCC Urdu News 31 January 24

حکمرا ں محاذ کے ایم ایل ایز کو فنڈ دینے کے لیے حکومت کے پاس پیسہ ہے، کیا یہ حکومت کے باپ کا ہے؟ اتل لونڈھے

حکمراں ایم ایل ایز کو 500 کروڑ کی خیرات، لیکن اپوزیشن کے لیے پیسے نہیں!

ممبئی کے لوگوں کے ساتھ ناانصافی کرنے والی شندے-بی جے پی حکومت کو عوام سبق سکھائے گی

ممبئی:یہ کوئی نئی بات نہیں ہے کہ بی جے پی حکومت اپوزیشن کے ساتھ انتقامی جذبے سے کام کر رہی ہے۔ بی جے پی حکومت ہرجانب سے پوزیشن پارٹیوں کو نقصان پہنچارہی ہے ۔ فنڈز کی تقسیم میں بھی حکومت کا امتیازی سلوک سامنے آیا ہے۔ ممبئی میں صرف برسراقتدار پارٹیوں کے ایم ایل ایز کو 500 کروڑ روپے دینا اور اپوزیشن پارٹیوں کے ایم ایل ایز کو ایک پیسہ نہ دینا سیاست کی گھٹیا شکل ہے۔ ممبئی کے لوگوں کی محنت کا پیسہ دینے میں اس قسم کا امتیاز قابل مذمت ہے۔ بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم حکومت کے باپ کی ہے؟یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہی ہیں۔

ایم ایل اے ڈیولپمنٹ فنڈ میں امتیازی سلوک پر ردعمل دیتے ہوئے اتل لونڈھے نے کہا کہ ممبئی کے 36 ایم ایل اے میں سے حکمراں پارٹی کے 21 ایم ایل اے کو فنڈز ملے ہیں۔ ہر ایم ایل اے کو اس کے حلقے میں ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز دیا جاتا ہے۔ توقع ہے کہ یہ رقم مساوی طور پر تقسیم کی جائے گی۔ لیکن بعض اوقات حکمراں پارٹیوں کا ایم ایل ایز کی طرف جھکاؤ ظاہر کرنا سمجھ میں آتا ہے، لیکن اپوزیشن ایم ایل ایز کو ایک پیسہ بھی نہ دینے کا سیاسی رجحان انتہائی نچلی سطح کا ہے۔ حالانکہ اپوزیشن کے ایم ایل ایز نے وقتاً فوقتاً سرپرست وزیر کو خطوط بھیج کر فنڈز کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن حکمراں بی جے پی اور شندے دھڑے کے ایم ایل اے کو فوری طور پر فنڈز فراہم کر دیے گئے ہیں۔

اتل لونڈھے نے کہا کہ حکومت ایم ایل اے کو ترقیاتی کاموں کے لیے فنڈز دیتی ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ کوئی احسان نہیں کر رہی ہے۔ یہ پیسہ عوامی ترقیاتی کاموں کے لیے دیا جاتا ہے۔ اپوزیشن ایم ایل اے کو ترقیاتی فنڈز نہ دینا اس علاقے کے لوگوں کو ترقی سے محروم کر نا ہے ۔ شندے-بی جے پی حکومت نے فنڈز کی تقسیم میں بہت امتیازی سلوک کیا ہے۔ یہ مہاراشٹر کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کی سیاست اس قدر نچلی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اتل لونڈھے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں ووٹ دیتے وقت شندے-بی جے پی حکومت کے ذریعہ کئے جانے والے اس امتیازی سلوک کو یاد رکھیں اور اپنے ووٹوں سے اس کا منہ توڑ جواب دیں۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading