الیکشن کمیشن ووٹر لسٹ کی بے ضابطگیوں کو کیوں درست نہیں کر رہا ہے؟
یکم نومبر کو احتجاجی مارچ کے ذریعے کیا جائے گا سوال، ہرش وردھن سپکال کا اعلان
مہایوتی حکومت کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش میں مصروف، قرض معافی ہر حال میں ہونی چاہیے
ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے الزام لگایا ہے کہ ریاست میں ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیاں پائی جا رہی ہیں، جسے سب سے پہلے کانگریس پارٹی نے ثبوتوں کے ساتھ بے نقاب کیا تھا۔ لیکن الیکشن کمیشن نے اس سنگین معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ سوئے ہوئے الیکشن کمیشن کو جگانے کے لیے یکم نومبر کو ایک بڑا احتجاجی مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں کانگریس پارٹی بھی شریک ہوگی۔
بلڈھانہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے بتایا کہ ممبئی میں یکم نومبر کے مجوزہ مارچ کے سلسلے میں آج ایک اہم اجلاس منعقد ہوا تھا، لیکن ذاتی وجوہات کی بنا پر وہ اس اجلاس میں شامل نہیں ہو سکے۔ مگر کانگریس کے نمائندے اس اجلاس میں موجود تھے اور پارٹی مارچ میں پوری طرح شرکت کرے گی۔ سپکال نے کہا کہ یہ بحث غیر ضروری ہے کہ اس احتجاج میں کون شریک ہوگا یا نہیں، اصل تو انتخابی فہرست کی بے ضابطگی کا مسئلہ ہے جسے سب کو مل کر اجاگر کرنا ہے۔
کسان رہنما بچو کڈو کے احتجاج پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ہرش وردھن سپکال نے کہا کہ حکومت پولیس اور عدالت کو سامنے رکھ کر اصل مسئلے سے راہِ فرار اختیار کر رہی ہے۔ عدالت کو ڈھال بنا کر حکومت کسانوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اگر حکومت میں واقعی حوصلہ ہے تو اسے براہِ راست کسانوں سے بات کرنی چاہیے۔ انتخابی مہم کے دوران کسانوں کی قرض معافی کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر اب اسے پوار کرنے میں حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے، جو سراسر بد دیانتی ہے۔ سپکال نے واضح طور پر کہا کہ کسانوں کا قرض معاف ہونا ہی چاہیے، یہ کوئی رعایت نہیں بلکہ ان کا حق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ریاستی حکومت کے خزانے میں پیسوں کی کمی ہے تو یہ اس کی انتظامی ناکامی اور مالی بدانتظامی کا ثبوت ہے۔ سپکال نے وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ کو للکارتے ہوئے کہا کہ اگر ان میں ذرا سی بھی غیرت باقی ہے تو انھیں فوراً دہلی جا کر مہاراشٹر کے لیے خصوصی مالیاتی پیکیج حاصل کرنا چاہیے۔
MPCC Urdu News 30 October 25.docx