فڈنویس وبی جے پی کے ذریعے صحافیوں پردباؤڈالنے کی گھناؤنی کوشش: ناناپٹولے
صحافیوں کو ایچ ایم وی وچائے بسکٹ والے بولنے والے بی جے پی وفڈنویس معافی مانگیں
ممبئی:میڈیا جمہوریت کا چوتھا ستون ہے۔ حکومت سے سوال کرنا اور اس کی غلط پالیسیوں پر تنقید کرنا اس کا بنیادی کام ہے، لیکن جمہوریت وآئین کو طاق پر رکھ چکی بی جے پی صحافیوں کو HMV (His Masters Voice)کہتے ہوئے انہیں غلام قراردیتی ہے۔ یہ صحافیوں پر دباؤ ڈالنے کی ایک گھناؤنی کوشش ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔ ریاست کے وزیراعلیٰ کی جانب سے صحافیوں کے تئیں اگر یہ رویہ اختیار کیا جاتا ہے تو یہ مہاراشٹر کے لیے افسوسناک ہے۔ بی جے پی وفڈنویس کو حرکت پر معافی مانگنی چاہئے۔ یہ مطالبہ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدرناناپٹولے نے کیا ہیں۔
نانا پٹولے نے کہا کہ 2014 میں جب سے مرکز میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آئی ہے، تمام اداروں کی آزادی چھین لی گئی ہے۔ حکومت کے اشارے پر انہیں نچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ میڈیا جمہوری حکمرانی نظام میں ایک نگراں کے طور پر سماج کی بہتری کے لیے کام کرتا ہے۔اگر میڈیا حکومت پر تنقید کرتا ہے یا اس سے سوال کرتا ہے تو اس میں میڈیا کا کیا قصور؟ یہ تو اس کی ذمہ داری ہے۔ لیکن جب اقتدار کا نشہ چڑھ جاتا ہے تو پھرتنقید بھی برداشت نہیں ہوتی اس لیے ان پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ نائب وزیر اعلی دیویندر فڈنویس کے ذریعے صحافیوں کو’ایچ ایم وی‘ کہنا اور انہیں کی پارٹی کے ایم ایل اے پراگ شاہ کا صحافیوں کو ’چائے بسکٹ والا‘کہنا یہ اقتدار کا نشہ چڑھنے کا ایک ثبوت ہے۔حکومت کے ذریعے صحافیوں ونیوزچینلوں پر دباؤ ڈالنے کی اس کوشش کی کانگریس پارٹی مذمت کرتی ہے۔ کانگریس میڈیا کی آزادی اور ان کے حقوق کے لیے ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
پٹولے نے یہ بھی کہا کہ شیو پرتشٹھان ادارے کے بانی سمبھاجی بھیڈے نے بھی ایک خاتون صحافی کی سرعام یہ کہہ کر توہین کی ہے کہ ’پہلے سیندور لگاؤ،پھر میں تم سے بات کرونگا‘۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی خاتون کی قابلیت سیندورلگانے سے ظاہر ہوتی ہے؟سمبھاجی بھیڈے کا ایک خاتون صحافی کی توہین کرنا تمام خواتین کی توہین ہے۔خواتین کو حقیر سمجھنا اہنکاری ذہنیت کا ثبوت ہے اوربھیڈے جیسے لوگ سماج کوبگاڑنے والے ہیں۔ ایسی ذہنیت کو روکا جانا چاہئے لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ ترقی پسند مہاراشٹر کے نائب وزیراعلیٰ اس قسم کی ذہنیت کی پشت پناہی کرتے ہیں۔جس مہاراشٹر کو آچاریہ بال شاستری جامبھیکر، لوک مانیہ تلک، ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر، آچاریہ اترے جیسے عظیم صحافیوں کی وراثت ملی ہے، اسی مہاراشٹرمیں صحافیوں کو نہایت نچلی سطح پر جاکرحکمرانوں کے ذریعے توہین کیا جانا کسی طور مناسب نہیں ہے۔