ریاست میں شندے-فڈنویس-پوار حکومت کا غنڈہ راج، لا ءاینڈ آرڈر تباہ، محکمہ پولیس پر بھاری دباؤ
ممبئی:مہاراشٹر میں قانون کی حکمرانی اب برائے نام بھی نہیں رہی۔ ریاست میں امن و امان مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے۔ حکمراں پارٹی کے ایم ایل ایز کی جانب سے پولیس اسٹیشن میں بار بار فائرنگ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مہاراشٹر میں جنگل راج آچکاہے۔ وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ، وزیر داخلہ پولیس پر بہت زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں اور انہیں قانون کے مطابق کام نہیں کرنے دیا جا رہا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے خلاف بی جے پی ایم ایل اے گنپت گائیکواڑ کے الزامات بہت سنگین ہیں۔ اس لیے اگر وزیر اعلیٰ میں تھوڑی سی بھی اخلاقیات باقی ہے تو وہ فوری طور پر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔
کانگریس کے ریاستی صدر نانا پٹولے نے حکمراں پارٹی کے ایم ایل اے کو الہاس نگر پولس اسٹیشن میں گولی مار کر زخمی کرنے کے معاملے میں حکومت پرسخت تنقید کی ہے۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی الہاس نگر میں پیش آنے والے واقعے کی سخت مذمت کرتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایم ایل اے گنپت گائیکواڑ کے معاملے میں شندے-بی جے پی حکومت کیا کارروائی کرتی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ اس معاملے نے بی جے پی کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تھانے میں گولی چلانے کی جسارت ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح اقتدار کا نشہ بی جے پی لیڈروں پرسوال ہوچکا ہے۔ آخر یہ کیسا رام راجیہ ہے؟پٹولے نے کہا کہ حکمراں پارٹی کی طرف سے ریاستی پولیس پر زبردست دباؤ ہے۔ سینئر آئی پی ایس افسران میں خوف و ہراس ہے۔ اگر حکمراں پارٹی کے ایم ایل اے کی بات نہیں مانی جاتی ہے تو ان کا فوری تبادلہ کردیا جاتا ہے۔ ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ قانون کے دائرے میں رہ کر کام نہ کریں۔ مہاراشٹر میں پہلے کبھی ایسی صورتحال نہیں تھی۔ ریاست میں امن و امان کی صورتحال مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے۔ ایسے میں مہایوتی حکومت کو فوراً برخاست کر دیا جاناچاہیے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ اس سے پہلے گنیش اتسو کے دوران حکمراں پارٹی کے ایم ایل اے سدا سراونکر نے کھلے عام فائرنگ کی تھی لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بلکہ حکومت نے انہیں پربھادیوی کے سدھی ونائک مندر ٹرسٹ کا چیئرمین بنا دیا۔ پونے کے بی جے پی ایم ایل اے سنیل کامبلے نے پولیس سے مارپیٹ کی۔ حکمراں جماعت کے ایم ایل اے کا کہنا ہے کہ پولیس ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، کیونکہ ہمارے باس’ساگر‘ بنگلے میں بیٹھے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا ساگر بنگلے میں بیٹھاےباس مجرموں کے باپ بن گئے ہیں؟ حکمراں پارٹی کا ایک ایم ایل اے کابینہ میں پسماندہ طبقے کے ایک سینئر وزیر کی کمر پر لات مارنے کی بات کرتا ہے۔یہ تمام باتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست میں غنڈہ راج چل رہا ہے۔ عوام کے محنت کی گاڑھی کمائی لوٹی جا رہی ہے۔ پونے میں ایک پروگرام میں شری رام اور سیتا ماتا کی توہین کی گئی۔ جب این ایس یو آئی کے کارکنوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا تو بجائے توہین کرنے والوں پرکارروائی کرنے کے این ایس یو آئی کے لوگوں کے ہی خلاف کارروائی کی گئی۔ پٹولے نے کہا کہ مہاراشٹر میں شندے-فڈنویس-پوار کا غنڈہ راج چل رہا ہے، لیکن ریاست کے عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔ صحیح وقت آنے پر عوام اس حکومت کو سبق ضرور سکھائیں گے۔