ممبئی: مرکزی حکومت کی جانب سے منظور شدہ زرعی قوانین کی کانگریس کی جانب سے پورے ملک میں مخالفت اوراحتجاج جاری ہے۔ کانگریس کا موقف یہ ہے کہ یہ قوانین کسان مخالف ہیں لہذا انہیں فوری طور پر منسوخ کیا جائے۔اس سلسلے میں آج کانگریس کے لیڈران کا اعلیٰ سطحی وفد ریاست کے گورنربھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کرتے ہوئے زرعی قوانین کی منسوخی کے مطالبے پر مبنی میمورنڈم پیش کیا ہے۔
اس وفد میں ریاست کے سابق وزیراعلیٰ سوشیل کمار شندے، سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان، آدیواسی فلاح وبہبود کے وزیر کے سی پاڈوی، خواتین واطفال کے بہبود کی وزیر یشومتی ٹھاکور، ممبرپارلیمنٹ سریش دھانورکر، سابق ممبر پارلیمنٹ بھالچندر مونگیکر، سابق وزیر ڈی پی ساونت، انیس احمد، ایم ایل اے کنال پاٹل، ایم ایل اے سہسرام کوروٹے، ایم ایل اے موہن راؤ ہمبرڈے، ایم ایل اے راجیش راٹھور، امرجیت سنگھ منہاس، روندر دلوی، ریاستی ترجمان اتل لونڈھے اور سوشی بین شاہ وغیرہ شامل تھے۔ اس سے قبل کانگریسی لیڈران نے منترالیہ کے پاس مہاتماگاندھی کے مجسمے کے قریب احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔
گورنر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے ریاست کے سابق وزیراعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ مرکز میں عام آدمی وکسانوں کی حکومت نہیں ہے بلکہ سوٹ بوٹ والوں کی حکومت ہے جو کسانوں وعام آدمی کے مفادات پرصنعتکاروں کے مفاد کو فوقیت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی نے نہایت عجلت میں تین کسان مخالف زرعی بل منظور کرتے ہوئے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ یہ کسانوں کو غلام بنانے والے قوانین ہیں اور اس کا راست فائدہ مودی کے صنعتکار دوستوں کو ہوگا۔ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ہمارا صاف موقف یہ تھا کہ بل کا جائزہ لینے کے لیے پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجا جائے۔ بی جے پی کو این ڈی اے میں شامل اپنی حماتی پارٹی اکالی دل سے بات صلاح ومشورہ کرنا چاہیے تھا۔ کابینہ کی میٹنگ میں بات چیت کرنی چاہئے تھی لیکن بی جے پی نے کچھ بھی نہیں کیا۔ مودی نے کہا تھا کہ 2022تک کسانوں کی آمدنی دوگنی کریں گے، لیکن کسانوں کو فی الوقت ایم ایس پی بھی نہیں مل پارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے گورنر سے ملاقات کے دوران یہ مطالبہ کیا ہے کہ یہ قوانین دوبارہ حکومت کو واپس بھیج کر اس پر ازسرِ نو غور کرنے کے لیے کہا جائے جس پر گورنر نے ہمیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اس معاملے میں مرکز سے بات چیت کریں گے۔ ریاست میں ان قوانین کے نفاذ کے تعلق سے پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ ریاستی کابینہ کی میٹنگ میں اس معاملے پر غور وخوض کیا جائے گا، اس کے بعد ہی اس پر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
کسانوں کے حق میں احتجاج کے مرحلے کے طور پر ۲اکتوبر کو کسان مزدور بچاؤ دن کے طور منایا جائے گا۔ اس دن ریاست کے تمام اضلاع وودھان سبھا ہیڈکوارٹر پر احتجاج ومظاہرے کیے جائیں گے۔ کانگریسی لیڈران نے یہ بھی اعلان کیا کہ جب تک مرکزی حکومت یہ کسان مخالف قوانین واپس نہیں لے لیتی، اس وقت یہ احتجاج ومظاہرے جاری رہیں گے۔ واضح رہے کہ گورنر سے ملاقات کی سربراہی ریاستی کانگریس کے نگراں ایچ کے پاٹل کرنے والے تھے،لیکن ان کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد ان سے رابطے میں آنے پر ریاستی کانگریس کے صدر بالاصاحب تھورات، تعمیرات عامہ کے وزیر اشوک چوہان سمیت دیگر سرکردہ لیڈران نے حفاظتی نقطہ نظر سے گورنر سے ملاقات نہیں
