MPCC Urdu News 28 Nov 24

الیکشن کمیشن نے عوام کے ووٹوں پر ڈاکہ ڈالا، ووٹنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد 7.83 فیصد ووٹوں کا اضافہ کیسے ہوا؟: نانا پٹولے

الیکشن کمیشن ان ووٹنگ مراکز کی ویڈیو فوٹیج جاری کرے جہاں ووٹوں میں اضافہ ہوا

الیکشن کمیشن کی ناقص کارکردگی سے اس کی غیرجانبداری اور شفافیت پر سوالیہ نشان، جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی

جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے کانگریس پارٹی عدالت اور سڑک دونوں محاذوں پر لڑے گی

ممبئی: مہاراشٹر اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کے فیصد میں تضاد ایک سنگین اور تشویشناک معاملہ ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ووٹنگ کے دن شام 5 بجے تک 58.22 فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے، لیکن اسی رات 11:30 بجے یہ تناسب بڑھ کر 65.02 فیصد ہو گیا اور اگلے دن یعنی 21 نومبر کو یہی تناسب 66.05 فیصد تک پہنچا۔ اس طرح کل 7.83 فیصد کا اضافہ ظاہر کیا گیا، جو تقریباً 76 لاکھ ووٹ بنتے ہیں۔ آخر یہ اضافہ کیسے ہوا؟ الیکشن کمیشن کو چاہیے کہ وہ ان مراکز کی ویڈیو فوٹیج جاری کرے جہاں ووٹوں کی تعداد میں یہ اضافہ ہوا۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے عوام کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا ہے۔

ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے کی صدارت میں اور پارٹی کے اہم لیڈروں کی موجودگی میں کانگریس کے اسمبلی امیدواروں کی ایک میٹنگ تلک بھون میں منعقد ہوئی۔ اس اجلاس میں سابق وزیر بالا صاحب تھورات، ریاستی ورکنگ صدر اور سی ڈبلیو سی ممبر نسیم خان، سابق وزیر کے سی پاڈوی، یشومتی ٹھاکور، ڈاکٹر ویشواجیت کدم، ایم ایل اے بھائی جگتاپ، ریاستی نائب صدر نانا گاونڈے اور دیگر موجود تھے۔

اس موقع پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نانا پٹولے نے ووٹوں کے اعداد و شمار پیش کیے اور الیکشن کمیشن کی ناقص کارکردگی پر سوال اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے دن شام 5 بجے کے بعد ووٹوں کے تناسب میں اضافے کے پیش نظر ووٹنگ مراکز پر لمبی قطاریں نظر آنی چاہیے تھیں۔ ریاست میں کتنے حلقوں میں ایسی قطاریں لگیں، یہ الیکشن کمیشن کو ثبوت کے ساتھ دکھانا چاہیے۔ الیکشن کمیشن نے ووٹنگ مراکز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کیے تھے، ان کی ریکارڈنگ دکھائی جائے۔ ووٹنگ ختم ہونے کے بعد الیکشن کمیشن پریس کانفرنس کر کے معلومات دیتا ہے، لیکن اس بار کمیشن نے پریس کانفرنس کیوں نہیں کی؟ اضافی ووٹوں کے بارے میں ملک بھر کے مختلف ماہرین نے سوالات اٹھائے ہیں۔ اس سے الیکشن کمیشن کی شفافیت اور ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا ہو گیا ہے۔

نانا پٹولے نے کہا کہ کانگریس پارٹی صرف اپنی شکست کے لیے نہیں بلکہ جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے ووٹنگ کے تناسب میں اس تضاد کو چیلنج کر رہی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور الیکشن کمیشن نے ملی بھگت سے جمہوریت کا مذاق بنادیا ہے۔ اسمبلی انتخابات میں ووٹوں کے تناسب کے حوالے سے کانگریس پارٹی عدالت اور سڑکوں پر لڑائی لڑے گی۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading