بارسو پروجیکٹ کو لوگوں کے سر تھوپنے کی کوشش نہ کریں
اگر مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال جاری رہا تو ہم منہ توڑ جواب دیں گے: نانا پٹولے
بارسوپروجیکٹ کا فیصلہ مقامی لوگوں کو اعتماد میں لے کر ہی کریں
حکومت نے مقامی لوگوں کی زمینیں باہر کے اور ان کے قریبی لوگوں کو کم قیمت پر دلوادیں
ممبئی:ایک طرف مقامی لوگ رتناگیری ضلع میں بارسو ریفائنری پروجیکٹ کی سخت مخالفت کر رہے ہیں، وہیں دوسری طرف بی جے پی کی قیادت والی شندے حکومت اس پروجیکٹ کو زبردستی لوگوں پر مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ پروجیکٹ کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف پولیس فورس استعمال کی جا رہی ہے۔ ہم پولیس کے اس اقدام کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ہماری پارٹی مقامی لوگوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر نانا پٹولے نے یہ بات کہی ہے۔پٹولے نے انتباہ دیا ہے کہ اگر حکومت نے لوگوں کے سر پھوڑ کر، ان کے خلاف جھوٹے مقدمات درج کر کے پروجیکٹ کو مکمل کرنے کی کوشش کی تو ہم بھی حکومت کو منہ توڑ جواب دیں گے۔
نانا پٹولے نے کہا کہ ریاست کی شندے حکومت بارسو پروجکٹ کو لے کر مقامی لوگوں پر دباؤ ڈال رہی ہے۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ جمعہ کو بھی پولیس نے مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا۔ کانگریس پارٹی کا ماننا ہے کہ حکومت کو بارسو ریفائنری پروجیکٹ پر مقامی لوگوں کو اعتماد میں لیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں لینا چاہیے۔ لیکن حکومت آمرانہ انداز میں کام کر رہی ہے۔ اگر حکومت اس پروجیکٹ کی مخالفت کرنے والے مقامی لوگوں کے ساتھ ناانصافی اور ظلم کرنے کے لیے پولیس فورس کا استعمال کرتی رہے گی توکانگریس پارٹی اس کو ہرگزبرداشت نہیں کرے گی۔
کانگریس کے ریاستی صدر پٹولے نے کہا کہ ریاستی حکومت نے ضلع رتناگیری میں مجوزہ بارسو ریفائنری پروجیکٹ کے آس پاس کی زمین باہر کے لوگوں اور حکومت کے قریبی لوگوں کو بہت کم قیمت پردے دی ہے۔ اب اسی زمین کو من مانی قیمتوں پر بیچ کر پیسے کمانے کا کاروبار شروع کردیا گیا ہے۔ حکومت کو کچھ لوگوں کے فائدے کے لیے دہلی کے دباؤ میں فیصلے لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ نانا پٹولے نے کہا کہ ہم بارسو گئے ہیں اور اس پروجکٹ کے حامیوں کے ساتھ ساتھ وہاں کے مخالفین سے بھی بات چیت کی ہے اور ان کی رائے معلوم کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مقامی لوگوں سے بات کیوں نہیں کر رہی، جو اس منصوبے کی مخالفت کر رہے ہیں؟ بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت بحث سے کیوں بھاگ رہی ہے؟ کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ شندے-فڈنویس حکومت کو تحمل کے ساتھ مظاہرین سے بات کرنی چاہئے اور کوئی حل نکالنا چاہئے۔ انہوں نے حکومت کو خبردار کیا کہ اگر مظاہرین کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو حکومت کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔