بارش سے متاثرہ کسانوں کو فی ایکڑ 20 ہزار اور فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کی فوری امداد دی جائے

کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال کا حکومت سے مطالبہ

امیت شاہ مہاراشٹر میں موجود ہونے کے باوجود بارش سے تباہی پر خاموش، دہلی روانگی سے قبل کسانوں کے لیے قرض معافی کا اعلان کریں

پہلی ہی بارش میں بی جے پی، شندے اور اجیت پوار کے گھوٹالے منترالیہ تک جا پہنچے، تحقیقات کب ہوں گی؟

ممبئی: مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہَرش وردھن سپکال نے ریاست میں حالیہ شدید بارش سے پیدا ہونے والے زرعی بحران پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر فی ایکڑ 20 ہزار روپے اور فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کی مالی امداد دے۔ اُن کا کہنا تھا کہ خریف سیزن کے آغاز ہی میں شدید بارش نے کسانوں کی تیار فصلوں کو بہا دیا ہے، ایسے میں سرکاری تاخیر اور رسمی کارروائیوں سے گریز کیا جائے اور فوری مدد فراہم کی جائے۔

گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے ہر دور میں کسانوں کے مفاد کو اولین ترجیح دی ہے۔ چاہے فصل پر بیماری ہو، اولے پڑیں یا شدید بارش ہو، کانگریس نے ہمیشہ کسانوں کو سہارا دیا ہے۔ موجودہ حکومت صرف زبانی جمع خرچ اور پنچنامے کرانے تک محدود ہے، جبکہ کسان خریف کے آغاز پر ہی بحران میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ حکومت کسانوں کو مفت بیج اور کھاد مہیا کرے، اور اگر قرض معافی ممکن نہیں، تو کم از کم قرضوں کی تنظیمِ نو (ری اسٹرکچرنگ) کا عمل تو فوری شروع کرے۔

سپکال نے بارش سے پیدا ہونے والی شہری تباہی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی، شندے گروپ اور این سی پی کے اتحاد کی بدعنوانی کی سونامی پہلی ہی بارش میں بے نقاب ہو چکی ہے۔ ندیوں اور نالوں کے پشتے ٹوٹنے سے جہاں این سی پی کی سابقہ بدعنوانیاں سامنے آئیں، وہیں ممبئی کے نکاسیِ آب کے نظام کی تباہی نے شندے گروپ کی نااہلی بھی ظاہر کر دی۔ لاکھوں کروڑ روپے خرچ کیے جانے کے باوجود ممبئی میں جگہ جگہ پانی بھر گیا، جس سے ثابت ہوا کہ حکومت کی تیاریاں صرف کاغذی تھیں۔

سپکال نے ایم ایم آر ڈی اے کی اس رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ ممبئی میں زیر زمین میٹرو ممکن نہیں، لیکن چند افراد کے ہٹ دھرمی کی وجہ سے اس منصوبے کو زبردستی نافذ کیا گیا، جس کے منفی نتائج اب واضح ہو رہے ہیں۔ ہزاروں درخت راتوں رات کاٹ دیے گئے، اور آج وہی لوگ پچھلی حکومتوں پر الزام لگا رہے ہیں۔ سپکال نے سوال اٹھایا کہ بی جے پی اور شیو سینا گزشتہ 25 برس سے ممبئی میونسپل کارپوریشن میں اقتدار میں ہیں، اور ایکناتھ شندے طویل عرصہ وزیر شہری ترقیات رہے، پھر بھی آج شہر کی یہ حالت کیوں ہے؟

انہوں نے کہا کہ اب وقت ہے کہ حکومت الزام تراشی بند کر کے خود احتسابی کرے اور عوامی مفاد میں ٹھوس اقدامات کرے۔ سپکال نے شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب پوری ریاست قدرتی آفت سے نبرد آزما ہے، تب ریاستی وزراء صرف امیت شاہ کی خوشامد میں لگے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ سمیت سبھی وزراء اپنی کرسی بچانے کی فکر میں ہیں، جبکہ عوام کو سہارا دینے والا کوئی نہیں۔ انتخابی مہم کے دوران امیت شاہ نے دو مفت سلنڈر، کسانوں کے لیے قرض معافی، اور خواتین کو 2100 روپے ماہانہ دینے کے وعدے کیے تھے، مگر اب اُن سب کو فراموش کر دیا گیا ہے۔

سپکال نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ امیت شاہ مہاراشٹر میں موجود رہنے کے باوجود کسانوں کی حالت پر ایک لفظ نہیں بولے۔ اب جبکہ وہ دہلی واپس جا رہے ہیں، تو کم از کم روانگی سے قبل کسانوں کے لیے قرض معافی کا اعلان تو کر ہی دیں، کیونکہ ریاستی حکومت تو اُن کے اشاروں پر ہی چلتی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران مہاراشٹر پردیش کانگریس کے نائب صدر موہن جوشی اور کانگریس کے ترجمانِ اعلیٰ اتل لونڈھے بھی موجود تھے، جنہوں نے سپکال کے تمام نکات کی بھرپور تائید کی اور حکومت کو کسانوں کے تئیں اپنی ذمہ داری نبھانے کا مشورہ دیا۔ کانگریس کا یہ مؤقف ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب ابتدائی مون سون کی بارش ہی نے ریاست کے زرعی اور شہری نظام کی ناکامی کو واضح کر دیا ہے، اور عوام حکومت کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔

بینکنگ کے شعبے کے ماہر وشواس اُتگی کی کانگریس پارٹی میں شمولیت

ممبئی: بینکنگ شعبے سے متعلق مختلف امور پر گزشتہ چالیس برسوں سے مسلسل حکومت سے جواب طلب کرنے والے معروف ماہر وشواس اُتگی نے آج گاندھی بھون، ممبئی میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہَرش وردھن سپکال کی موجودگی میں باقاعدہ طور پر کانگریس پارٹی کی رکنیت اختیار کی۔ اس موقع پر پارٹی میں اُن کے داخلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے پردیش کانگریس صدر ہَرش وردھن سپکال نے وشواس اُتگی کو نیک تمناؤں کے ساتھ مبارکباد دی۔

اس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے صدر سپکال نے کہا کہ مرکز اور ریاست دونوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت آمرانہ روش اختیار کر چکی ہے اور اب بینکوں کے نظامِ کار میں بھی مداخلت کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ کچھ سرمایہ داروں نے بینکوں سے کروڑوں روپے کا قرض لے کر ملک سے فرار اختیار کر لی، مگر بی جے پی حکومت ان کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی نہیں کر رہی۔ اقتصادی محاذ پر بھی یہ حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ سپکال نے مزید کہا کہ ہمیں مکمل یقین ہے کہ وشواس اُتگی بینکنگ اور اقتصادی شعبے سے متعلق مسائل پر آواز بلند کر کے حکومت کو بیدار کرنے کا اہم فریضہ انجام دیں گے۔

اس موقع پر مہاراشٹر پردیش کانگریس کے نائب صدر اور سابق رکنِ اسمبلی موہن جوشی، نیز پارٹی کے ریاستی ترجمان اتُل لونڈھے بھی موجود تھے۔

اپنی رائے یہاں لکھیں

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading