محنت کشوں کا استحصال اب دیہی علاقوں تک پہنچا
اس استحصالی نظام کو ختم کرنے کی اشد ضرورت ہے: ہرش وردھن سپکال
نجکاری کے باعث مزدوروں کے وجود کا سوال پیدا ہو گیا ہے
ممبئی: کبھی مزدور تنظیمیں ایک بڑی قوت ہوا کرتی تھیں، اگر اپنے حقوق کے لیے چکا جام کا نعرہ بلند کیا جاتا تو شہر بند ہو جاتے، مگر اب حالات ویسے نہیں رہے۔ کئی صنعتیں بند ہو رہی ہیں اور جو باقی ہیں، ان میں آؤٹ سورسنگ اور کنٹریکٹ کے ذریعے مزدوروں کی بھرتی کی جا رہی ہے، جس سے استحصال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ استحصال صرف شہروں تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ دیہی علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ اس استحصالی نظام کو ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے اور اس کے لیے مستقبل کے خطرات کو سمجھ کر متحد ہو کر جدوجہد کرنا ضروری ہے۔ یہ باتیں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہی ہیں۔ وہ نیشنل لیبر کانگریس کے ریاستی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔
ریاستی کانگریس کے صدر نے اپنے خطاب میں مزید کہ کہ پہلے صنعت کار تھے، اب محض تاجر باقی رہ گئے ہیں جو صرف منافع کے لیے کام کر رہے ہیں، انہیں مزدوروں کی فلاح و بہبود سے کوئی سروکار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی مزدور مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہوتے جا رہے ہیں، لیکن وزیر اعظم کو غریبوں کی کوئی فکر نہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’امیر کا امیر ہونا کیا گناہ ہے؟‘ یہ بیان انتہائی سنگین اور تشویشناک ہے۔ وزیر اعظم کو غریبوں کی فلاح و بہبود کی کوئی پرواہ نہیں۔ یہ حکومت غریب، محنت کش اور مزدوروں کے خلاف ہے۔
انہوں نے مودی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت کے معاملات میں صرف ’دال میں کچھ کالا نہیں، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے‘۔ ان کی نیت میں کھوٹ ہے اور ان کے غریبوں و محنت کشوں کی فلاح و بہبود کی کوئی پالیسی نہیں ہے۔ ہمیں ایسی طاقتوں کے خلاف لڑنا ہوگا اور محروم طبقات کے لیے جدوجہد کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب مزدوروں کا استحصال ہو رہا ہو تو خاموش نہیں بیٹھا جا سکتا۔ عملی اقدامات کریں، ایک بڑی تحریک کھڑی کریں اور متحد ہو کر مقابلہ کریں، یہی وقت کا تقاضا ہے۔