سیلابی صورت حال کسان پریشان لیکن حکومت کی آنکھوں پر پٹی
دسہرہ سے قبل کسانوں کو راحت دیجیے، ہرش وردھن سپکال کا حکومت سے مطالبہ
ایم ایل ایز خریدنے اور شکتی پیٹھ ہائی وے کے لیے پیسے ہیں لیکن کسانوں کے لیے نہیںٟ، مرکز سے خصوصی پیکیج لائیں
کانگریس کے ریاستی صدر کا چھترپتی سمبھاجی نگر اور جالنہ میں سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ اور کسانوں سے ملاقات
ممبئی/چھترپتی سمبھاجی نگر:مہاراشٹر کی صورتحال شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے نہایت خراب ہو گئی ہے، جس کے سبب خریف فصل مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔ کسانوں کو بے پناہ نقصان ہوا ہے، لیکن انتظامیہ کی جانب سے کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا گیا۔ دسہرہ اور دیوالی قریب ہیں، مگر وزیراعلیٰ صرف اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں، عملی اقدامات نہیں کر رہے۔ قحطِ باراں کی صورت حال کی شدت واضح ہے، لیکن حکومت اسے مکمل طور پر نظر انداز کر رہی ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ہرش وردھن سپکال نے مطالبہ کیا کہ دسہرہ سے قبل فی ہیکٹر 50 ہزار روپے کا معاوضہ کسانوں کے اکاؤنٹس میں جمع کیا جائے۔
سپکال نے آج چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع کے پیٹھن تعلقہ کے مورما اور کولی بھودکھا اور جالنہ ضلع کے اَمبڑ تعلقہ کے مسائی میں شدید بارش سے ہونے والے نقصانات کا جائزہ لیا اور متاثرہ کسانوں سے ملاقات کی۔ اس موقع پر رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر کلیان کالے، چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع کانگریس کمیٹی کے صدر کرن پاٹل ڈونگاؤاکڑ، جالنہ ضلع کے صدر راج بھاؤ دیشمکھ اور ریاستی کانگریس کے سینئر نائب صدر راجندر راک سمیت کانگریس کے دیگر رہنما موجود تھے۔ سپکال نے کسانوں کی مشکلات کو سمجھا اور یقین دہانی کرائی کہ کانگریس اس مشکل وقت میں کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے۔
دورے اور کسانوں سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپکال نے کہا کہ وزیراعلیٰ جو کہتے ہیں، وہ عملی طور پر کرتے نہیں ہیں، ان کے وعدے ‘جھوٹے کے گھر کھانے کا دعوت نامہ’ کے مترادف ہیں۔ بارش نے کسانوں کی فصلیں بہا دیں، ان کی زندگی اجاڑ دی، روزگار کے ذرائع تباہ کر دیے، لیکن فڈنویس حکومت خاموش بیٹھی ہے۔ حکومت کے وزرا ٔ کھیتوں پر آ کر صرف فوٹو کھینچ کر واپس چلی گئے، اور کسانوں کو کچھ نہیں ملا۔ وزیراعلیٰ، نائب وزیراعلیٰ اور وزرا کے بیانات غصہ دلانے والے ہیں۔ کسان حکومت سے سوال کرتے ہیں تو جواب میں کہا جاتا ہے کہ پیسے کہاں سے لائیں؟ کیا ہم جیب میں پیسہ لے کر چل رہے ہیں؟ سپکال نے کہا کہ عوام کا غصہ اگر حکومت کی سمجھ میں نہیں آتا ہے تو یہ ایک غیر حساس اور بے حس حکومت کی نشانی ہے۔ مہا یوتی حکومت کی زبان غرور اور شرمناک ہے۔
سپکال نے مزید کہا کہ اڈانی کے لیے حکومت کے پاس پیسہ ہے، مگر کسانوں کے لیے نہیں۔ ایم ایل ایز اور ایم پیز کو خریدنے کے لیے، 55 ہزار کروڑ روپے کے سمردھی ہائی وے کے لیے، ضرورت نہ ہونے کے باوجود 88 ہزار کروڑ روپے کے شکتی پیتھ ہائی وے کے لیے پیسہ موجود ہے، لیکن کسانوں کو دینے کے لیے نہیں۔ سپکال نے مطالبہ کیا کہ وزیراعلیٰ اور نائب وزیراعلیٰ دہلی جا کر مرکز سے مہاراشٹر کے لیے خصوصی پیکیج حاصل کریں تاکہ کسانوں کو ان کا حق دیا جا سکے۔