حکومت ریاست میں ریزرویشن کا تنازعہ بندکرے: نانا پٹولے
مراٹھا اوبی سی تنازعہ اور بھجبل کے’بَل‘ کے پیچھے بی جے پی ہے
راجستھان و چھتیس گڑھ کے لیے 450 روپے میں سلنڈر تو مہاراشٹر کے لوگوں نے کیا گناہ کیاہے؟
ممبئی:ریاست میں پچھلے کچھ دنوں سے مراٹھا بمقابلہ او بی سی تنازعہ کو جان بوجھ کر طول دیا جارہا ہے۔ بی جے پی کو مراٹھا، او بی سی، دھنگر برادریوں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنا چاہیے۔ اگر حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ وہ کسی بھی طبقے کے ریزرویشن کو نقصان پہنچائے بغیر دوسرے طبقے کو ریزرویشن دے گی تواسے عوام کو واضح طور پر بتانا چاہئے کہ وہ کرے گی۔ لیکن حکومت کا موقف واضح نہیں ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہا ہے کہ مراٹھا،او بی سی برادریوں کے درمیان تنازعہ کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے اور حکومت کو ریزرویشن پر شروع ہونے والے اس تنازعے کو روکنا چاہئے۔
ناگپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ریاست میں بے روزگاری، مہنگائی اور کسانوں کے مسائل اہم ہیں لیکن حکومت اس پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ حکومت کسانوں، بے روزگار نوجوانوں، عام لوگوں کے جذبات کو نہیں سمجھتی لیکن کانگریس کے لیے عوام کے بنیادی مسائل اہم ہیں۔ کون کیاکہتا ہے؟ یہ کانگریس اور مہاراشٹر کے لوگوں کے لیے اہم نہیں ہے اور کسی کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ریزرویشن مخالف پارٹی ہے اور ملک کے وزیر اعظم یہ کہہ کر ریزرویشن کو ختم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ غریبی ایک ذات ہے۔ پٹولے نے کہا کہ ریزرویشن کے معاملے پر کانگریس کا موقف واضح ہے۔ ہمارا واضح طور پر کہنا ہے کہ ذات پرمبنی مردم شماری سے مراٹھا، او بی سی، دھنگرومسلم برادری سمیت تمام برادریوں کے ریزرویشن کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ اگر کانگریس اقتدار میں آتی ہے تو ذات پرمبنی مردم شماری کرایا جائے گا۔
مہاراشٹر نے کونسا گناہ کیا ہے؟
کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ بی جے پی نے بڑے پیمانے پر اشتہار دیا ہے کہ اگر راجستھان اور چھتیس گڑھ میں بی جے پی کی حکومت آتی ہے تو وہ 450 روپے میں گیس سلنڈر فراہم کرے گی۔ بی جے پی کے بڑے لیڈر بھی 450 روپے میں سلنڈر دینے کی بات کر رہے ہیں۔ اس وقت مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومت ہے تو بی جے پی حکومت ریاست میں 450 روپے میں سلنڈر کیوں نہیں دے رہی ہے؟ مہاراشٹر کے لوگوں نے کیا آخرکیاگناہ کیا ہے؟سچائی یہ ہے کہ یہ سب جھوٹے وعدے ہیں۔ اجولا گیس اسکیم میں صرف 20 فیصد سلنڈر ہی ری فل کیے جاتے ہیں،جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اسکیم پوری طرح ناکام ہوگئی ہے لیکن اجولا اسکیم کے نام پر غریبوں کو فراہم کیا جانے والا مٹی کا تیل بی جے پی حکومت نے روک دیا ہے۔پٹولے نے کہا کہ منافع کمانا حکومت کا کام نہیں ہے لیکن 2014 سے مرکز کی بی جے پی حکومت منافع کمارہی ہے اور اپنے متروں کو فائدہ پہنچارہی ہے۔
’پنوتی ‘ٹویٹ پر اتنا ہنگامہ کیوں؟
ایک سوال کے جواب میں کانگریس کے ریاستی صدر نے کہا کہ ہم نے وزیر اعظم نریندر مودی کو پنوتی نہیں کہا ہے۔ وہ ملک کے قابل احترام وزیر اعظم ہیں۔ لفظ پنوتی پچھلے دو تین دنوں سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اس کا مطلب ہے اہنکار ہوتا ہے اور ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ اہنکاری مزاج رکھنے والے لوگوں کو اب چلے جانا چاہیے۔ ٹویٹ میں بھی یہی کہا گیا ہے۔ اگر بی جے پی اسے اپنے اوپر لے رہی ہے تو یہ ان کا مسئلہ ہے۔