دیوندرفڈنویس جھوٹوں کے شہنشاہ ہیں، افسران مرکزی حکومت وبی جے پی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی نہ بنیں

ممبئی: وصولی کیسے کرتے ہیں؟ وصولی میں کس قدر حصہ داری ہوتی ہے؟ اور ان کی تقسیم کیسے کی جاتی ہے؟ اس کا بھرپور تجربہ حزبِ مخالف لیڈر دیوندرفڈنویس کو ہے اوروہ اپنیاسی تجربے کا فی الوقت عملی مظاہرہ کررہے ہیں۔ پانچ سال تک اقتدار

میں رہتے ہوئے منترالیہ میں آر ایس ایس کے کارکنان کو تمام محکموں میں کس طرح گھسایا گیا، وہ کس طرح وصولی کررہے تھے اور اس وصولی میں سے کتنا حصہ آر ایس ایس کو جاتا تھا؟ اس کی تفتیش کرنے کا مطالبہ ہم وزیراعلیٰ سے ملاقات کے ذریعے کرنے

والے ہیں۔ دیوندر فڈنویس کویہ سخت جواب آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے دیا ہے۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ناناپٹولے نے پولیس تبادلوں کے ضمن میں دیوندرفڈنویس کے ذریعے آج لگائے گیے الزامات کی بخیہ ادھیڑ دی۔ انہوں نے کہاکہ اقتدار میں رہتے ہوئے دیوندرفڈنویس نے رشمی شکلا جیسے افسران کو استعمال کرتے ہوئے کس کو کتنا حصہ دینا ہے اس کا بھرپور تجربہ حاصل کیا ہے۔ بی جے پی نے آئی اے ایس و آئی پی ایس پر مرکزی حکومت کے ذریعے دباؤ ڈال کر اقتدار غلط استعمال کیا ہے۔ ایسے

افسران کسی کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر کام نہ کریں۔ مہاراشٹر وکاس اگھاڑی حکومت کو بی جے پی بدنام کرنے کررہی ہے لیکن مہاراشٹر کی عوام اس کے اس کھیل کو اچھی طرح سمجھ چکی ہے۔ فڈنویس کا رویہ خود کو جج سمجھنے کا ہے۔ حکومت کو بدنام کرنے کے لیے کبھی افسران تو کبھی راج بھون کا استعمال کیا جارہا ہے۔ دیوندرفڈنویس دراصل جھوٹوں کے شہنشاہ ہیں جو اسمبلی میں بھی جھوٹ بولتے ہیں۔

سابق پولیس کمشنر پرمویر سنگھ پر کل تک یہی بی جے پی والے تنقید کررہے تھے، اور اب وہی پرمویرسنگھ ان کے محبوب بن چکے ہیں۔ وہ کس کے اشارے پر کام کررہے ہیں؟ اس کی ہمیں بخوبی معلومات ہے۔ ممبرپارلیمنٹ موہن ڈیلکر نے ممبئی میں خودکشی کی، اس کی ایف آئی آر درج کرنے میں بھی پرمویرسنگھ نے ٹال مٹول کیا۔ ان کا کردار مشکوک رہ چکا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فی الوقت جو معاملہ جاری ہے اس کا ہائی کورٹ کے جج یا کسی سبکدوش جج

کے ذریعے تفتیش کرائی جائے۔ اگر میں حکومت میں ہوتا تو پرمویر سنگھ نے جو حرکتیں کی ہیں، اس کی پاداش میں ان کا تبادلہ نہیں بلکہ انہیں معطل کردیتا۔

ناناپٹولے نے کہاکہ اصل معاملہ مکیش امبانی کے گھر کے قریب جیلیٹن کی سلاخیں رکھی ہوئی گاڑی کا تھا۔ یہ جلیٹین کی سلاخیں کہاں سے آئیں؟ اس کی تفتیش جاری رہتے ہوئے منسوکھ ہرین کی موت کا معاملہ ہوگیا۔ اس معاملے کی تفیش اے ٹی ایس نہات عمدہ طریقے سے کررہی تھی کہ بی جے پی کے لوگوں نے اس کی تفتیش این آئی اے کے سپرد کیے جانے کا مطالبہ کیا۔ اب اس کا مزید ہوّا کھڑا کیا جارہا ہے۔

سچائی یہ ہے کہ عوام کا مہنگائی سے جینا دوبھر ہوگیا ہے، بیروزگاری میں زبردست اضافہ ہوگیا ہے۔ ان بنیادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بی جے پی نے یہ پورا جھوٹ کا بازار گرم کیا ہے۔ ناناپٹولے کی میڈیا سے خطاب کے دوران ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر ایم ایل اے کنال پاٹل، ایم ایل اے سنگرام تھوپٹے وریاستی کانگریس کے ترجمان اتل لونڈھے بھی موجود تھے۔