MPCC Urdu news 24 June 23

یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ آج اس کی جمہوری حیثیت بتانی پڑرہی ہے: اتل لونڈھے

کانگریس 80-20کی نہیں بلکہ سو فیصد کی سیاست کی کرتی ہے اور سب کو ساتھ لے کر چلتی ہے

ممبئی: ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر امریکہ میں وزیراعظم کے جواب پرسخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کانگریس کے ریاستی چیف ترجمان اتل لونڈھے نے کہا ہے کہ یہ ملک کی بدقسمتی ہے کہ آج دنیا میں ہندوستان کو اپنی جمہوری حیثیت بتانی پڑرہی ہے، وگرنہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا اور کوئی بھی ہندوستان کی جمہوری حیثیت پر سوال نہیں کرسکتا تھا۔یہ اس وجہ سے ہوا ہے کہ گزشتہ ۹سالوں میں بی جے پی نے جمہوریت کو ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

لونڈھے نے کہا کہ اس ملک کوسابق وزیراعظم جواہرلال نہرو کا شکرگزار ہوناچاہئے کہ انہوں ملک میں جمہوریت کو اتنا مضبوط بنادیا تھا کہ کبھی دنیا کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کہ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے۔ لیکن بی جے پی حکومت آنے کے بعد سے جس طرح جمہوریت کو ختم کرنے کی کوشش ہوئی ہے وہ نہایت افسوسناک ہے۔لونڈھے نے کہا کہ واشنگٹن میں وال اسٹریٹ جرنل کی صحافی نے وزیراعظم سے مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی سے متعلق سوال کیا تھا، لیکن چونکہ وزیراعظم کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا، اس لیے وہ جمہوریت اور آئین پر بات کرنے لگے۔ لونڈھے نے کہا کہ کون نہیں جانتا کہ ہندوستان کی ایک جمہوری ملک ہے، لیکن وزیراعظم نے اس کا اعادہ کرکے خود یہ ثابت کردیا کہ ان کے دورِ حکومت میں ملک کی جمہوریت کمزور ہوئی ہے اور آئین کو تباہ کیا جارہا ہے۔

کانگریس کے ریاستی ترجمان نے کہا کہ بی جے پی ملک میں 80اور20فیصد کی سیاست کرتی ہے جبکہ کانگریس سوفیصد کی سیاست کرتی ہے۔ کانگریس کسی بھی طبقے کو کبھی ووٹ بینک نہیں مانا بلکہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے میں یقین رکھتی ہے۔ کانگریس کے نزدیک ملک کا ہرشہری برابر ہے پھر چاہے وہ کسی بھی مذہب یاذات سے تعلق رکھتا ہو۔لیکن بی جے پی عملامسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری سمجھتی ہے، اسی لیے ان کے ساتھ زیادتیوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوگیا کہ جس نے بیرونِ ملک لوگوں کو تشویش میں مبتلاکردیا ہے۔ آئے دن مسلمانوں کے خلاف بیانات، موب لنچنگ، بائیکاٹ کرنے کی اپیلیں یہ سب بی جے پی واس کی نظریات والی تنظیموں کی جانب سے ہورہا ہے لیکن وزیراعظم خاموش رہتے ہیں۔ ان کی اسی خاموشی کی وجہ سے شرپسندوں کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ لونڈھے نے کہا کہ ایسی ایک نہیں سیکڑوں مثالیں ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ بھید بھاؤ اور زیادتی ہورہی ہے،لیکن وزیراعظم کبھی کچھ نہیں بولتے۔ لونڈھے نے کہا کہ مسلمانوں کے ساتھ زیادتی کا معاملہ اگر نہیں روکا گیا تو وہ دن دور نہیں کہ پوری دنیا میں ہم الگ تھلگ پڑجائیں۔

عیدالاضحی کی تعطیل 28کے بجائے 29جون کو دی جائے

ریاستی کانگریس کے کارگزار صدر نسیم خان کا وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کو مکتوب

ممبئی:کانگریس کے ریاستی کارگزار صدر وسابق وزیر نسیم خان نے آج وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے کو ایک مکتوب لکھ کر عیدالاضحی کی تعطیل 28جون کے بجائے 29جون کو دینے کی مانگ کی ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب لکھا ہے کہ’آپ اس بات سے بخوبی واقف ہونگے کہ ہرسال کی طرح اس سال بھی مسلمانوں کا مقدس تہوار عیدالاضحی چاند کے مطابق 29جون کو منایاجارہا ہے۔ لیکن سرکاری اعلان کے مطابق عیدالاضحی کی تعطیل 28جون کو دی گئی ہے۔ عیدالاضحی چونکہ مسلمانوں کا ایک اہم تہوار ہے اس لیے 28جون کو دی گئی سرکاری تعطیل کو تبدیل کرتے ہوئے 29جون کو کردیا جائے تاکہ ریاست کے مسلمان اس دن اطمینان سے عیدالاضحی کا تہوار مناسکیں‘۔

واضح رہے کہ عیدالاضحی کے دن ریاست میں سرکاری تعطیل دی جاتی ہے جو شمشی کیلنڈر کے مطابق ہوتی ہے۔ جبکہ عید وعیدالاضحی کا تہوار چاند دیکھنے کے بعد منایاجاتا ہے۔ اس سال چونکہ ذی الحجہ کا چاند 19/جون کا نظر آیا تھا، اس لحاظ سے عیدالاضحی کا تہوار29جون کو منایا جائے گا۔ وزیراعلیٰ کو لکھے گیے اپنے مکتوب کے بارے میں مزید معلومات دیتے ہوئے نسیم خان نے بتایا کہ عیدلاضحی کے دن سرکاری تعطیل ہوتی ہے اور یہ تعطیل حکومت نے اس سال 28جون کو اعلان کیا ہے۔ چونکہ تعطیل کا اعلان کرتے ہوئے حکومت عام کیلنڈر کو پیشِ نظررکھتی ہے، اس لیے عیدوعیدالاضحی کی تعطیل بسااوقات آگے پیچھے ہوجایا کرتی ہے۔ ہم نے وزیراعلیٰ سے اس ضمن میں تحریری مطالبہ کیا ہے کہ وہ پہلے سے اعلان شدہ 28جون کی تعطیل کو تبدیل کرتے ہوئے 29جون کو کریں تاکہ مسلمان اطمینان سے اس دن عیدقرباں کا تہوار مناسکیں۔ مجھے یقین ہے کہ وزیراعلیٰ میرے اس مطالبے پر غور کرتے ہوئے عیدالاضحی کے تعطیل کا دن تبدیل کریں گے۔

CamScanner_2406153451.pdf

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading