بھارت جوڑو یاترا کی وجہ سے آرایس ایس کو مسلمانوں کی یاد آئی

9

سرسنگھ چالک موہن بھاگوت کو امام الیاسی سے ملاقات کیوں کرنی پڑی؟

کانگریس کی ’بھارت جوڑو یاترا‘ میں عوام کے زبردست جوش وخروش نے آر ایس ایس وبی جے پی کے پیروں کے نیچے کی زمین کھسکادی ہے

ممبئی:ممبرپارلیمنٹ راہل گاندھی کی قیادت میں شروع ہوئی بھارت جوڑو پدا یاترا میں عوام کا زبردست جوش وخروش دیکھ کر وہ پارٹیاں اور تنظیمیں حددرجہ پریشانی میں مبتلا ہوگئی ہیں جو رات دن ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر سماج میں دراڑیں پیدا کرنے میں لگی رہتی ہیں۔ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پیدا کرکے سیاسی مفاد حاصل کرنے والی بی جے پی اورآرایس ایس کے پیروں کے نیچے کی ریت سے سرک گئی ہے۔ اس لیے آر ایس ایس کو مسلمانوں کی یادآگئی اور سرسنگھ چلک موہن بھاگوت امام عمیر احمد الیاسی سے ملاقات کرنے پہنچ گئے۔وگرنہ اس سے قبل انہیں مسلمانوں کی کبھی یاد تک نہیں آئی تھی۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ناناپٹولے نے کہی ہیں۔ وہ یہاں آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کی آل انڈیا امام آرگنائزیشن کے صدر عمیر احمد الیاسی سے ملاقات پر اپنے ردعمل کا اظہار کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کنیا کماری سے کشمیر تک بھارت جوڑو پدا یاترا شروع ہوئے 15 دن ہوچکے ہیں اور اس یاترا کو سماج کے تمام طبقات کی جانب سے زبردست تعاون مل رہا ہے۔ملک میں فی الوقت بی جے پی وآر ایس ایس کی جاری بھارت توڑومہم کو کانگریس نے بھارت جوڑو کے ذریعہ مناسب جواب دیا ہے اور کانگریس کی یہ بھارت جوڑو یاترا ملک میں تمام طبقات ومذاہب کے درمیان اتحاد، بھائی چارے کے فروغ، ملک کے تنوع کو برقرار رکھنے نیز جمہوریت وآئین کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔یہ یاترا ملک کے کونے کونے میں جائے گی جس سے ذات پات ومذاہب کے درمیان پیدا کی جانے والی منافرت کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ ناناپٹولے نے کہا کہ بی جے پی ہندو مسلم تنازعہ، لو جہاد، مساجد اور مدارس، سماج میں کشیدگی بڑھانے اور سماجی امن کو درہم برہم کرنے جیسے مسائل کا فائدہ اٹھا کر اپنی سیاست کر رہی ہے۔ اسی پد یاترا کے دوران ایک پانچ چھ سال کی مسلم بچی نے راہل گاندھی سے ملاقات کی تو اس پر بھی بی جے پی نے تنقید کرکے اپنی مسلم نفرت کا اظہار کیا۔

ناناپٹولے نے کہا کہ مسلمانوں کی سادی سی ٹوپی جنہیں پسند نہیں ہے آج انہیں مسجد میں جاکر امام سے ملاقات کرنی پڑرہی ہے، یہ کانگریس کی بھارت جوڑو یاترا کی کامیابی کی ایک بین دلیل ہے۔ لیکن اب وقت گزر چکا ہے اور بی جے پی یا آر ایس ایس مسلم پریم کا چاہے جتنا دکھاوا کرلیں، مسلمان ان کی گمراہ کن محبت کے شکار نہیں ہونگے۔یہ ملک سبھی لوگوں کا ہے، تنوع میں اتحادہی اس ملک کی شناخت ہے اور اس کا تحفظ صرف کانگریس پارٹی ہی کرسکتی ہے اور کررہی ہے۔

دریں اثناء ممبئی میں بھارت جوڑو پدایاترا کے حوالے سے ایک میٹنگ ہوئی جس میں تشار گاندھی، یوگیندر یادو، سینئر سماجی کارکن میدھا پاٹکر نے شرکت کی۔ انہوں نے بھارت جوڑو یاترا کی حمایت کی ہے اوران کے علاوہ مختلف ہم خیال تنظیموں اور جماعتوں نے بھی پدایاترا میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔