کیا شری کانت شندے سوپرسی ایم بن گئے ہیں؟ مہیش تپاسے

15

انہیں مہاراشٹر کی عوام سے معافی مانگنی چاہئے

ممبئی:وزیراعلیٰ کے بیٹھنے کے لیے مخصوص کرسی پر بیٹھ کر افسران کو حکم دینے والے ممبرپارلیمنٹ شری کانت شندے کیا سوپرسی ایم بن گئے ہیں؟ این سی پی کے ریاستی چیف ترجمان مہیش تپاسے نے یہ سوال کرتے ہوئے شری کانت شندے سے مطالبہ کیا ہے وہ مہاراشٹر کی عوام سے اپنی اس حرکت کے لیے معافی مانگیں۔واضح رہے کہ ممبرپارلیمنٹ شری کانت شندے کی ایک تصویر وائرل ہوئی ہے جس میں وہ وزیراعلیٰ کی کرسی پربیٹھ کر افسران کو احکامات دے رہے ہیں۔ مہیش تپاسے نے اس کے بعد شری کانت شندے پر زبردست تنقید کی ہے۔

مہیش تپاسے نے کہا ہے کہ کیا یہی سیاسی تہذیب ہے کہ اگر والد سی ایم ہیں تو ان کی کرسی پرآکر بیٹھا جائے؟ جبکہ سی ایم کے لیے کرسی مخصوص ہوتی ہے اوراس پر دوسرا کوئی نہیں بیٹھ سکتا ہے۔ لیکن شاید شری کانت شندے نے یہ تہذیب سیکھی ہی نہیں ہے۔ شری کانت شندے کو اس طرح کی حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی۔ وی آئی پی ہاؤس کے لوگوں کو پروٹوکول پر عمل کرنا دوسروں سے زیادہ ضروری ہوتا ہے اور ایک طرح کی سماجی حد برقرار رکھنی پڑتی ہے۔شری کانت شندے کو اس پروٹوکول اور سماجی حد کا علم ہونا چاہئے۔ انہوں نے سی ایم کی کرسی پر بیٹھ کر سی ایم کے عہدے کی توہین کی ہے بھلے ہی سی ایم ان کے والد ہی کیوں نہیں ہیں۔ اس کے لیے شری کانت شندے کو مہاراشٹر کی عوام سے معافی مانگنی چاہئے۔