سیف علی خان حملہ کرنے والا اور گرفتار شدہ شخص کیا ایک ہی ہیں؟ ممبئی پولیس وضاحت کرے: نانا پٹولے

سیف علی خان حملہ ہندو مسلم نہیں بلکہ لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ، لیکن بی جے پی اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے

ممبئی: اداکار سیف علی خان کے گھر پر آدھی رات کو ہونے والے حملے کے بعد ممبئی کی سیکیورٹی پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ ممبئی پولیس نے حملہ آور کی گرفتاری کا اعلان کیا ہے، لیکن ایک اخبار کے دعوے کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا حملہ آور اور گرفتار شدہ شخص میں مشابہت نہیں ہے۔ اس معاملے پر ممبئی پولیس کو وضاحت کرنی چاہیے اور سچائی عوام کے سامنے لانی چاہیے، یہ بات مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے کہی ہے۔

تلک بھون میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کانگریس پردیش صدر نانا پٹولے نے کہا کہ ممبئی کے باندرہ علاقے کو محفوظ سمجھا جاتا تھا، لیکن اس علاقے میں ایک اداکار کے گھر پر حملہ ہونے سے نہ صرف سیلیبریٹیز بلکہ عام شہری بھی خوفزدہ ہو گئے ہیں۔ اگر سیف علی خان جیسا مشہور اداکار محفوظ نہیں ہے تو دیہاتوں میں رہنے والے سرپنچ یا عام لوگ کیسے محفوظ ہو سکتے ہیں؟ یہ قانون و نظم و نسق کا سنگین مسئلہ ہے اور حکومت کی جانب سے ریٹائرڈ پولیس افسران کو اہم عہدوں پر بٹھانے کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سیف علی خان پر حملہ قانون و نظم و نسق کا مسئلہ ہے، نہ کہ ہندو مسلم معاملہ، لیکن بی جے پی اسے مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے معاملے میں بی جے پی حکومت نے سی بی آئی تحقیقات کا حکم دیا تھا، تو آج تک سی بی آئی نے اپنی رپورٹ کیوں نہیں دی؟ بی جے پی حکومت سوشانت جیسے ہندو کو انصاف نہیں دلا سکی۔ اگر قانون اور لا اینڈ آرڈر کے مسئلے پر بھی بی جے پی مذہبی ایجنڈا چلائے گی تو یہ چھترپتی شیواجی مہاراج کے مہاراشٹر کی بدقسمتی ہوگی۔

انہوں نے بی جے پی کی اسکیموں کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی اتحاد نے ’لاڈکی بہین‘ اسکیم کا بہت چرچا کیا اور ہر بہن کو ماہانہ 1500 روپے دینے کا وعدہ کیا۔ لیکن اس اسکیم کا فائدہ غلط لوگوں نے اٹھایا۔ یہاں تک کہ بنگلہ دیشی شہریوں نے بھی اس اسکیم سے فائدہ اٹھایا، جو حکومت کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب اسکیم شروع کی جا رہی تھی تو حکومت کو خامیاں کیوں نظر نہیں آئیں؟ انہوں نے مرکزی حکومت پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ اگر بنگلہ دیشی شہری اس اسکیم سے فائدہ اٹھا رہے ہیں، تو وہ ملک اور مہاراشٹر میں داخل کیسے ہوئے؟ مرکز میں گزشتہ 11 سال سے 56 انچ سینہ رکھنے والی مودی حکومت ہے، پھر کیا مودی حکومت کمزور ہے؟ نانا پٹولے نے کہا کہ عوام کے پیسے کا غلط استعمال کرنے والی حکومت کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading