وزیر اعظم مودی عوام کے لیے نہیں بلکہ صرف ’یہول بھائی‘ جیسے دوستوں کے لیے کام کرتے ہیں

ٹیکسٹائل کمشنر کا دفتر ہٹا کر مہاراشٹر کو تباہ کرنے کی سازش: نانا پٹولے

بی جے پی کی کوشش ممبئی کو تباہ کرنے کی ہے کیونکہ اس شہر کو گجرات نہیں لے جایا جا سکتا

ممبئی: مرکز کی بی جے پی حکومت کی نظر ہمیشہ ممبئی اور مہاراشٹر پر رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت ممبئی اور ریاست کی اہمیت کو کم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ ریاست میں شند ے فڈنویس حکومت کے آنے کے بعد سے مہاراشٹر کے اہم پروجیکٹ گجرات منتقل ہو گئے ہیں،جس کی وجہ سے ریاست کو کافی نقصان ہوا ہے۔ اب ٹیکسٹائل کمشنر کے دفتر کو ممبئی سے دہلی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر نانا پٹولے نے مودی حکومت کے اس فیصلے کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جان بوجھ کر کیا جا رہا ہے کیونکہ ممبئی سمیت پورے مہاراشٹر کو تباہ کرنا بی جے پی کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔

اس تعلق سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ممبئی ملک کا معاشی دارالحکومت ہے اور اس شہر کی عالمی سطح پر ایک خاص پہچان ہے۔ ممبئی اور مہاراشٹر کے بنیادی ڈھانچے اور سازگار ماحول کو ذہن میں رکھتے ہوئے، دنیا بھر سے بہت سے صنعت کار یہاں سرمایہ کاری کے لیے آتے ہیں۔ صنعتی طور پر مہاراشٹر ہمیشہ ملک میں سب سے آگے رہا ہے لیکن بی جے پی پچھلے کچھ سالوں سے ممبئی اور مہاراشٹر کی اہمیت کو کم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ شندے فڈنویس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ویدانتا-فوکسکان، بلک ڈرگ پارک، میڈیکل ڈیوائس پارک اور ٹاٹا ایئربس جیسے بڑے پروجیکٹ مہاراشٹر سے باہر چلے گئے۔ اس سے پہلے فڈنویس حکومت کے دوران ممبئی میں بی کے سی میں واقع انٹرنیشنل ایکنامی سروس سینٹرکو گجرات کے گاندھی نگر منتقل کردیا گیا تھا۔ پیٹنٹ، ڈیزائن اور ٹریڈ مارک آفس کو بھی دہلی منتقل کر دیا گیا ہے۔ نیشنل میرین پولیس اکیڈمی کو پالگھر سے گجرات کے دوارکا میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ممبئی میں ہیروں کی صنعت کا ایک بڑا گروپ پنچرتن بھون میں کام کرتا تھا لیکن یہاں سے بھی کاروباری گجرات چلے گئے ہیں۔ ممبئی اور ریاست کے اہم دفاتر اور پروجیکٹوں کو دہلی کی ایماء پر ریاست سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ چونکہ ممبئی کو گجرات نہیں لے جایا جا سکتا، اس لیے اس شہر کو برباد کرنا بی جے پی کا منصوبہ ہے۔

ایک صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے نانا پٹولے نے کہا کہ ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ وزیر اعظم نریندر مودی صرف اڈانی، نیرو مودی و میہول بھائی جیسے صنعتکار دوستوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ ان کے پاس ملک کے 140 کروڑ عوام کی بھلائی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ایک طرف کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی ملک کی جمہوریت اور آئین کو بچانے کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ عوام کے سوال پر حکومت سے جواب مانگ رہے ہیں، لیکن مودی حکومت انہیں روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدعنوان تاجروں کو مودی حکومت میں پناہ دی جارہی ہے۔ کانگریس کے ریاستی صدر نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کی انتظامیہ ’چور کوچھوڑو اور سنیاسی کو پھانسی دو‘ کی طرح کام کر رہی ہے۔

Discover more from ورق تازہ

Subscribe now to keep reading and get access to the full archive.

Continue reading