بی جے پی کی طرف سے خواتین کی مسلسل توہین کی جاتی ہے۔مراٹھا ریزرویشن کے مسئلہ پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے
ممبئی:خواتین ریزرویشن بل کی میں حمایت کرتی ہوں، لیکن مراٹھاریزرویشن پربھی ایوان میں بحث ہونی چاہئے نیز خواتین ریزرویشن بل میں ایس سی، ایس ٹی اور اوبی سی خواتین کے ریرزرویشن کوبھی شامل کیا جائے۔ یہ مطالبہ این سی پی کی ممبرپارلیمنٹ سپریا سولے نے پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل اپنا موقف ظاہرکرتے ہوئے کیا ہے۔
اپنی تقریر کے دوران سولے نے کہا کہ جب میں پارلیمنٹ کے لیے منتخب ہوئی تواس وقت دو خواتین میرے سامنے تھیں،ایک برندا کرت اوردوسری سشما سوراج۔مجھے نہیں معلوم کہ اس بل سے حکومت کو فائدہ ہوگا یا نقصان، لیکن یہ ضرور معلوم ہے کہ یہ حکومت کا ایک اورجملہ ہے، اس پرزیادہ غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ انتخابات کے پیش نظر ہی مودی حکومت یہ بل لائی ہے۔ریزرویشن معاملے پر بولتے ہوئے سپریا تائی سولے نے کہا کہ میں اس بل کی حمایت کرتی ہوں، لیکن اس بل میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کو شامل کیا جانا چاہیے۔ ایوان میں آپ کے پاس 303 کی اکثریت ہے نیزکئی ریاستوں میں توڑپھوڑ کے ذریعے آپ کی حکومت ہے تو آپ کو لوک سبھا اور قانون ساز اسمبلی میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن دینا چاہیے نیز مراٹھا اوردھنگر ریزرویشن پربھی پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہئے۔ سپریا سولے نے کہا کہ میں عوامی نمائندہ ہوں، میری رائے ہے کہ مجھ جیسی خواتین کو ریزرویشن نہیں ملنا چاہیے کیونکہ یہ ریزرویشن ان خواتین کے لیے ہے جنہیں مواقع نہیں ملتے۔ میری جیسی خواتین کو کوئی بھی ریزرویشن قبول نہیں کرنا چاہیے، چاہے وہ مراٹھا ہوں، او بی سی ہوں، دھنگر ہوں، مسلم ہوں۔ کیونکہ جن کو واقعی ریزرویشن کی ضرورت ہے انہیں اس کافائدہ ملنا چاہئے۔ ہم نے تعلیم حاصل کی ہے، ہمارے گھروالوں نے ہمیں اپنے پیروں پر کھڑا کیا ہے اس لیے ہمیں ریزرویشن نہیں لینا چاہیے۔
سپریاسولے نے کہا کہ بابا صاحب امبیڈکر نے ہر عورت کو ووٹ کا حق دیا۔ مہاتما پھلے نے خواتین کو تعلیم کا حق دیا۔میرے والد شرد پوار نے مہاراشٹر میں بلدیاتی اداروں میں خواتین کو ریزرویشن دیا ہے۔ پرمیلا ڈنڈاوتے پہلی خاتون تھیں جنہوں نے خواتین کے ریزرویشن کے لیے پرائیویٹ بل پیش کیا تھا۔ میرے والد شرد پوار اور والدہ پرتیبھا پوار نے فیصلہ کیا تھا کہ صرف ایک بچہ ہوناچاہئے،پھر چاہے وہ لڑکا ہو یا لڑکی۔50 سال قبل یہ فیصلہ کرنا واقعتاقابل ستائش تھا۔ انہوں نے کہا کہ میری پیدائش کے بعد میری والدہ کا آپریشن نہیں بلکہ میرے والدنے اپناآپریشن کراتے ہوئے فیملی پلاننگ کیا، جس پر مجھے فخر ہے۔
سپریاسولے نے کہا کہ ذمہ داری کا کوئی بھی عہدہ کارکردگی پر منحصر ہوتا ہے۔ یہ مرد یا عورت کی بنیادپر نہیں ہوتاہے۔ مہاراشٹر کا وزیر اعلیٰ ایسا شخص ہونا چاہیے جو مہاراشٹر کو ترقی کی راہ پرگامزن کرسکے۔سپریاسولے نے امیت شاہ کے بیان کاجواب دیتے ہوئے کہا ہر گھر میں ایسے بھائی نہیں ہوتے ہیں جو بہن کی مدد کر سکیں۔اسی کے ساتھ ہی بی جے پی لیڈروں نے مجھے گھر جا کر کھانا پکانے کا مشورہ دیا۔ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی کی طرف سے خواتین کی مسلسل توہین کی جاتی ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خواتین کے تئیں بی جے پی کی یہی ذہنیت ہے؟
