خواتین کے لوکل ریلوے سے سفر پر ریلوے اور بی جے پی کی جانب سے رکاوٹ
ریلوے کو ممبئی کی خواتین کے سفر کی اجازت دینے سے انکار کرنا بی جے پی کی گھٹیا سیاست
ممبئی: ریاستی حکومت کی جانب سے ممبئی کی خواتین کو لوکل ریلوے سے سفر کی اجازت دینے کے باوجود محکمہ ریلوے کی جانب سے کیا جانے والا ٹال مٹول حیران کن ہے۔ ممبئی میں خواتین کو لوکل ٹرین سے سفر کے لیے محکمہ ریلوے پر بی جے پی لیڈران اعلیٰ سطحی دباؤڈال رہے ہیں کہ اس معاملے میں وہ ریاستی حکومت کے ساتھ تعاون نہ کرے، جو بی جے پی کی گھٹیا سیاست کا ایک نمونہ ہے۔ تمام سطح پر بات چیت ہونے کے باوجود بھی محکمہ ریلوے کی جانب سے اس معاملے میں ٹال مٹول کرنے کی آخر وجہ کیا ہے؟ اس کا جواب ریلوے کے وزیر پیوش گوئیل وبی جے پی ممبئی کی خواتین کو دیں۔ یہ مطالبہ آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت نے کیا ہے۔
میڈیا سے اس تعلق سے بات کرتے ہوئے سچن ساونت نے کہا کہ ایم ایم آر ریجن میں خواتین کو لوکل ٹرین سے سفر کی اجازت دینے کے معاملے میں ۴ میٹنگیں ہوئیں۔ یہ میٹنگیں ستمبر مہینے میں اور ۹ و13اکتوبر کو ہوئیں۔ 13اکتوبر کی شام کو ہونے والی میٹنگ میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے افسران، ریلوے کے افسران اور محکمہ پولیس کے افسران موجود تھے۔ اس میٹنگ میں ڈھائی گھنٹے تک تمام پہلو پر غورفکر کرتے ہوئے 17اکتوبر کی تاریخ طئے کی گئی۔ اس کے بعد ریاستی حکومت نے جیسے ہی خواتین کے لیے لوکل ٹرین سے سفر کے لیے اعلان کیا، محکمہ ریلوے نے بالکل آخری مرحلے میں 16تاریخ کو انکار کرتے ہوئے ریلوے بورڈ کے اجازت کو اس کی وجہ بتایا۔ ۴ میٹنگوں کے بعد فیصلہ ہونے پرریلوے انتظامیہ کو ریلوے بورڈ کے اجازت نامے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ فیصلہ ہونے سے قبل ریلوے انتظامیہ نے ریلوے بورڈ سے کیوں بات چیت نہیں کی؟
لوکل ریلوے سے سفر کے معاملے میں ریلوے کی جانب سے اچانک موقف کا تبدیل کیا جانا افسوسناک وحیران کن ہے۔ کیا محکمہ ریلوے پر بی جے پی لیڈران کا دباؤ ہے کہ وہ ریاستی حکومت کو تعاون نہ کرے؟ کیونکہ بی جے پی لیڈران شب وروز اسی کام میں لگے ہوئے ہیں کہ مرکزی حکومت کے تحت آنے والی انتظامیہ کو ریاستی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے سے روکا جائے۔ محکمہ ریلوے کی جانب سے اب جو وجوہات بتائی جارہی ہیں ان میں کافی تضاد ہے۔ ریلوے انتظامیہ نے پہلے ریلوے بورڈ سے اجازت کی وجہ بتائی اور اب کووڈ19 کے اصول وضوابط بتارہی ہے۔ ایمرجنسی خدمات سے تعلق رکھنے والے ۴ لاکھ لوگ روزآنہ لوکل ٹرین سے سفر کرہی رہے ہیں۔ کووڈ کے تعلق احتیاط فی الوقت برتے ہی جارہے ہیں، پھر اس میں مزید تبدیلی کی کیا ضرورت پیش آگئی؟۔ پہلے 11سے ۳ وشام کو ۷ بجے کے بعد کا وقت خواتین کی سفر کے لیے طئے کیا گیا تھا کیونکہ ان اوقات میں سفرکرنے والی خواتین کی کم رہے گی۔ پھر اب ریلوے انتظامیہ کی جانب سے ریاستی حکومت سے یہ بتانے کی ضد کی کیوں کی جارہی ہے کہ سفرکرنے والی خواتین کی تعداد کتنی ہوگی؟ برسہابرس سے لوکل ٹرینیں چل رہی ہیں، کن اوقات میں کتنی خواتین سفر کرتی ہیں اس کی پوری معلومات ریلوے انتظامیہ کے پاس ہے۔ اس کے باوجود ٹال مٹول کرتے ہوئے وقت کیوں گزارا جارہا ہے؟ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اس کے پیچھے یقینی طور پر سیاست کارفرما ہے۔
مرکز مہاراشٹر کے حق کا 30ہزار کروڑ ادا کرے: بالاصاحب تھورات
بی جے پی لیڈران ہوائی باتیں کرنے کے بجائے مرکز سے مدد لانے کی کوشش کریں
ممبئی: کورونا بحران کی وجہ سے مہاراشٹر معاشی مشکلات کا شکار ہے۔ اس پر قدرتی آفات سے بھی سخت نقصان پہونچا ہے۔ ایسی صورت حال میں مرکزی حکومت کو مدد کا ہاتھ دراز کرنا ضروری ہے جو ابھی تک نہیں کیا ہے۔ لیکن ستمبر آخر تک ریاستی حکومت کا جی ایس ٹی کا تقریبا 30ہزار کروڑ روپئے مرکزی حکومت کی جانب سے ملنا باقی ہے۔ کم ازکم وہی پیسہ مرکز ادا کردے۔ یہ مطالبہ آج یہاں ریاستی کانگریس کے صدر ووزیرمحصول بالاصاحب تھورات نے کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے ملازمین کو تنخواہ ودیگر یومیہ اخراجات کے لیے صرف ہونے والا 55ہزار کروڑ روپئے قرض سے حاصل کیا ہے۔ کورونا کی وجہ سے محصول کم ہوا ہے۔ ان لاک کے عمل کے بعد صورت حاصل بہتری آئے گی لیکن فی الحال قرض حاصل کرنا پڑ رہا ہے۔ مہاراشٹر مرکزی حکومت کو سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرتا ہے لیکن ریاست کو امداد دینے کے معاملے میں مرکزکی جانب سے ہاتھ اٹھا دیا جاتا ہے۔ ریاستی حکومت کسانوں کے ساتھ مضبوطی سے کھڑی ہے اور وہ یقینی طور پر ان کی مدد کرے گی۔ ریاست کے بی جے پی لیڈران بڑی بڑی باتیں تو کررہے ہیں لیکن مرکزی حکومت کے پاس ریاستی حکومت کے حصے کا جی ایس ٹی بقایاجات 30 ہزار کروڑ روپئے ملنے کی ضمن میں کوئی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ اگر بی جے پی لیڈران ریاستی حکومت کا جی ایس ٹی کا حصہ نیز دیگرامداد مرکزی حکومت سے دلانے میں مدد کرتے ہیں تو ہم ان کا استقبال کریں گے۔